بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سودا مکمل کیے بغیر بروکر کا بروکری مانگنا

سوال

ہماری ایک پراپرٹی ہے جسے ایک سپر اسٹور کو کرایہ پر دینے کے لیے ایک بروکر کے ذریعے بات چیت چل رہی تھی، اس پارٹی نے ایک ایڈوانس چیک بھی دیا تھا، جو چھ سات ماہ تک کیش نہ ہو سکا، پھر بعض وجوہات کی بنا پر ہماری بات نہ بن سکی، چنانچہ ہم نے پارٹی کو چیک واپس کر دیا اور معاملہ ختم ہو گیا،اب بروکر کا کہنا ہے کہ میری بروکری ادا کی جائے، اس لیے کہ میں نے محنت کی ہے، اگرچہ آپ کا معاملہ طے نہیں پایا، جبکہ ہمارا موقف یہ ہے کہ جب معاملہ بنا ہی نہیں اور بات فریقین کے درمیان ختم ہو گئی تو تمہاری بروکری نہیں بنتی۔جب کہ پھر بعد میں ہم نے کسی دوسرے بروکر کے ذریعے یہ پراپرٹی کسی اور پارٹی کو کرایہ پر دے دی۔ اس پہلے بروکر کا کہنا ہے کہ مجھے دونوں معاملات میں سے بروکری دی جائے۔

اب ازروئے شرع یہ معلوم کرنا ہے کہ مذکورہ صورت میں بروکر کی بروکری ہمارے ذمہ لازم ہے یا نہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں  جب بروکر نے پہلی پارٹی کے ساتھ سودا مکمل نہیں کروایا اور نہ ہی  اس پارٹی سےسودا ہوا ہے،  تو بروکر  اپنی بروکری کا مستحق نہیں ہے، اسی طرح دوسری پارٹی کے ساتھ معاملے میں تو مذکورہ بروکر  بروکری کر ہی نہیں رہا تھا، تو اس وجہ سے  دوسری جگہ معاملہ طے ہونے کی وجہ سے بھی بروکری کا مستحق نہیں ہے۔

تبيين الحقائق میں ہے:

"فلايجب ‌الأجر إلا ‌بعد ‌العمل فعند ذلك هو معلوم فهذا هو القاعدة لهما."

(تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق: 5/140، ط:طبعة القاهرة)

فتاوی شامی میں ہے:

"(و لايستحق ‌المشترك ‌الأجر حتى يعمل كالقصار ونحوه) كفتال و حمال و دلال و ملاح."

( باب ضمان الاجیر،6/ 64،ط: سعید)

وفیہ ایضاً:

"وأما الدلال فإن باع العين بنفسه بإذن ربها فأجرته على البائع وإن سعى بينهما وباع المالك بنفسه يعتبر العرف وتمامه في شرح الوهبانية.

(قوله: يعتبر العرف) فتجب الدلالة على البائع أو المشتري أو عليهما بحسب العرف جامع الفصولين."

 (كتاب البيوع، ج:4، ص:560،ط : سعيد)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144711102095
تاریخ13-05-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں