بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بچے کی ولدیت تبدیل کرنا

سوال

میری کوئی اولاد نہیں ہے، میں نے اپنے بھتیجے کے بچے کو لے پالک بنایا ہے، اس بچے کو اپنی والدہ اور میری اہلیہ کی بہن نے دودھ پلایا ہے، اب اس بچے کے بے فارم بنانا ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ اس بچے کو دستاویزات میں ہم اپنی ولدیت دے سکتے ہیں، یعنی حقیقی والدین کی جگہ ہم اپنا نام اندراج کراسکتے ہیں؟ جب کہ حقیقی والدین کے نام کے اندراج میں  مشکلات کا سامنا ہے، کیوں کہ بچے کے حقیقی والد اب دور رہتے ہیں، نیز یہ بچہ شروع ہی سے ہمارے ساتھ رہا ہے۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں لے پالک بچے کو اس کے حقیقی والد کی طرف منسوب کرکے پکارنا اور کاغذات وغیرہ میں ولدیت کے خانے میں حقیقی والد کا نام لکھنا شرعاً ضروری ہے، حقیقی والد کے بجائے پرورش کرنے والے کا نام ولدیت کے خانے میں لکھنا جائز نہیں ہے، البتہ سائل بچے کے کاغذات میں اپنا نام بطورِ سرپرست کے لکھوا سکتے ہیں۔

قرآنِ کریم میں ہے:

"وَمَا جَعَلَ أَدْعِيَاءَكُمْ أَبْنَاءَكُمْ ۚ ذَٰلِكُمْ قَوْلُكُم بِأَفْوَاهِكُمْ ۖ." [الأحزاب:4]

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144711101159
تاریخ02-05-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں