بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

2 بطن مناسخہ

سوال

ہماری چچی کا انتقال ہو گیا ہے ،ان کے ورثاء میں شوہر، ایک بھائی اور دو بہنیں شامل ہیں، مرحومہ کی کوئی اولاد نہیں ہے اور ان کے والدین کا انتقال بھی ان سے پہلے  ہو چکا تھا، چچی مرحومہ کے ترکہ میں دو پلاٹ ہیں چچی کے انتقال کے بعد ہمارے چچا یعنی چچی کے شوہر کا بھی  انتقال ہو گیا ،ان کے ورثاء میں صرف دو بھائی ہیں،والدین کا انتقال پہلے ہو چکا تھا ،اب چچی مرحومہ کے ترکہ  میں جو دو پلاٹ ہیں، ان کی تقسیم کیسے ہو گی؟

جواب

صورت مسئولہ میں مرحومہ  چچی کے ترکہ کی تقسیم کا شرعی طریقہ کار یہ ہے کہ مرحومہ کے   حقوقِ متقدمہ اگر مرحومہ کے ذمہ کوئی قرضہ  ہو تو مرحومہ کے ترکہ میں اس کی ادائیگی کے بعد،  اور اگر مرحومہ نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو باقی مال کے ایک تہائی مال میں سے اس وصیت کو نافذ کرنے کے بعد باقی کل متروکہ جائیداد منقولہ و غیر منقولہ کو  آٹھ   حصوں میں تقسیم کرکے اس میں سے  چچی کے بھائی کو   دو  حصے،ہر ایک بہن  کو  ایک ایک  حصہ،مرحوم ،چچا کے ہر ایک بھائی کو  دو دو  حصے ملیں گے  ۔

صورت تقسیم یہ ہے:

میت(چچی):8/2

شوہر بھائی  بہن بہن
1 1
4 2 1 1
فوت شدہ      

میت(مرحوم چچا):2  مض :1                                                                                                                                                             مف:4  مض:2

بھائی  بھائی
1 1
2 2

یعنی فی صد کے اعتبار سے 25 فی صد مرحومہ کے بھائی کو،12.5 مرحومہ کی ہر ایک بہن کو ،25 فی صد مرحوم چچا کے ہر ایک بھائی کو ملیں گے۔فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144711100755
تاریخ26-04-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں