بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

غلطی سے غیر واجب مال پر ادا کی گئی زکوٰۃ کو آئندہ سال کی زکوٰۃ میں شمار کرنے کا حکم

سوال

میں 2011 سے دوسری چیزوں اور مال کے ساتھ ساتھ اپنے استعمال والے گھر پر بھی زکات دے رہا ہوں،ہر سال واجب الادا ء   زکات میں سے کچھ رقم ادا  کرنا رہ جاتی ہے، جو میں اگلے آنے والے سال میں ادا کرتاہوں ، اور اس کا ہر سال مکمل حساب رکھتا ہوں۔

اب سوال یہ ہے کہ جس چیز پر زکات نہیں تھی اور لاعلمی کی وجہ سے میں نے اس پر زکات دے دی تو کیا حساب کرکے وہ اضافی رقم اگلے سال 2026کی زکات میں شمار کرسکتاہوں؟

جواب

صاحب نصاب شخص اگر قابل زکوٰۃ  اموال ے ساتھ ناقابل زکوٰۃ  اموال کو بھی شامل کر کے کل اموال کی زکوٰۃ ادا        کردے،تو غیر قابل زکوٰۃ   اموال پر ادا کردہ زکوٰۃ  اگلے سال کی زکوٰۃ  شمار ہوجاتی ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں سائل نے 2011سے اب تک اپنے رہائشی مکان پر جتنی زکوٰۃ  نکالی ہو، وہ سب اگلے سال کی زکوٰۃ  شمار ہوجائے گی،  پس 2026میں زکوٰۃ  کی تاریخ پر  حساب کرتے ہوئے واجب الاداء زکوٰۃ میں سے یہ رقم منہا کرلی جائے۔

المحیط البرہانی میں ہے:

"‌ولو ‌كان ‌عند ‌رجل ‌أربعمائة ‌درهم، فظن أن عنده خمسمائة درهم فأدى زكاة خمسمائة درهم.ثم ظهر أن عنده أربعمائة، فله أن يحتسب الزيادة للسنة الثانية، لأنه أمكن أن يعجل الزيادة تعجلاً."

(كتاب الزكاة،الفصل التاسع في المسائل المتعلقة بمعطي الزكاة، ج: 2، ص: 293، ط: دار الكتب العلمية)

فتاوی شامی میں ہے:

"‌وفي ‌الولوالجية: ‌لو ‌كان ‌عنده ‌أربعمائة درهم فأدى زكاة خمسمائة ظانا أنها كذلك كان له أن يحسب الزيادة للسنة الثانية؛ لأنه أمكن أن يعجل الزيادة تعجيلا اهـ."

(كتاب الزكاة،‌‌باب زكاة الغنم، ج: 2، ص: 293، ط: سعيد)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

‌"رجل ‌له ‌أربعمائة ‌درهم فظن أن عنده خمسمائة فأدى زكاة خمسمائة ثم علم فله أن يحسب الزيادة للسنة الثانية كذا في محيط السرخسي."

(كتاب الزكاة، الباب الثاني في صدقة السوائم، الفصل الأول في المقدمة، ج: 1، ص: 176، ط:دار الفكر بيروت)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144711100274
تاریخ21-04-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں