بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 ربیع الثانی 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

دو بیٹے اور پانچ بیٹیوں میں ترکہ کی تقسیم

سوال

میرے والد صاحب نے میری والدہ کو ایک مکان اور کچھ زیورات بطور ملکیت   دیے تھے ، پھر 25 سال پہلے والدہ انتقال کر گئیں ۔  ان کے ورثا ءمیں شوہر،  تین بیٹے اور پانچ بیٹیاں ہیں؛  ان  کے والدین پہلے انتقال کر گئے ہیں۔

  پھر آج  سے ایک سال پہلے ایک غیر شادی شدہ بیٹے کا انتقال ہوا  ؛ اس کے ورثا ء میں والد ، دو بھائی اور پانچ بہنیں ہیں ۔

اب والد صاحب کا انتقال ہوا ، ان کی  ایک دکان ہے ۔ ورثا میں دو بیٹے اور پانچ بیٹیاں ہیں؛  ان  کے والدین پہلے انتقال کر گئے ہیں۔ 

 ہم بہن بھائیوں میں مذکورہ ترکہ کی شرعی تقسیم کیسے کی جائے گی ؟

جواب

  مسئولہ صورت میں  والدین   کے ترکہ کی تقسیم کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ مرحوم والدین کی   تجہیز و تکفین کے اخراجات ادا کرنے کے بعد، مرحومین پر اگر کوئی قرض ہو تو قرض ادا کرنے کے بعد، مرحومین   نےاگر  کوئی جائز وصیت کی ہو تو    ایک تہائی ترکہ  میں سے  وصیت نافذ کرنے کے بعد ، بقیہ مال کو9 حصوں میں تقسیم کرکے  مرحوم   والدین کے ہر ایک زندہ بیٹے کو 2حصے ، مرحوم والدین کی ہر ایک زندہ بیٹی کو 1 حصہ ملے  گے ۔

صورت تقسیم یہ ہوگی :
میت (والدین):9

بیٹا بیٹا  بیٹی بیٹی بیٹی بیٹی بیٹی
2 2 1 1 1 1 1

یعنی فیصد کے اعتبار سے مرحومین والدین کے ہر ایک زندہ بیٹے کو 22.222فیصد ، اور ہر ایک زندہ بیٹی کو 11.111فیصد ملے گا ۔

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144711100194
تاریخ20-04-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں