بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

لاٹری میں پیسے ہار کر چھوٹے بھائیوں کو رقم کا ذمہ دار بنانا کیسا ہے؟

سوال

دو بھائیوں نے آپس کے مشورہ سے کچھ  عرصے پہلے لاٹری میں رقم لگائی تھی، اور  ان کی  کفالت میں چھوٹے تین بھائی تھے،  چھوٹے بھائیوں  سے اس بارے میں کوئی رائے نہیں لی گئی تھی، اب بڑے بھائیوں کا کہنا ہے کہ ہم نے جو رقم لاٹری میں ہاری ہے، وہ ان چھوٹے بھائیوں کو بھی ادا کرنا پڑے گی، کیوں کہ اگر ہم یہ رقم جیت جاتےہیں  تو چھوٹوں کو بھی دیتےہیں ۔

کیا بڑے بھائیوں کا چھوٹے تین بھائیوں کے ذمہ میں رقم ڈالنا صحیح ہے؟

جواب

واضح رہے کہ ”لاٹری “ درحقیقت ”سود“ اور ”جوئے“ پر مشتمل ہوتی ہے، جس کی وجہ سے نفس لاٹری میں پیسہ لگانا ہی ناجائز  اور حرام ہے۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں بڑے دو بھائیوں کا لاٹری میں رقم لگانا حرام  کا ارتکاب تھا، پھر مزید بر آں خود حرام کام کا ارتکاب کر کے چھوٹے بھائیوں کو  ہارے ہوئے پیسوں کا ذمہ دار ٹھہرانا ناجائز ہے، اور گناہ پر گناہ ہے۔  

مرقاۃ المفاتیح میں ہے:

” وعنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «لا يدخل الجنة عاق ولا قمار ولا منان ولا مدمن خمر“

(ولا قمار) بتشديد الميم أي ذو قمار والمعنى من يقامر والقمار في عرف زماننا كل لعب يشترط فيه غالبا أن يأخذ الغالب من الملاعبين شيئا من المغلوب، كالنرد والشطرنج وأمثالهما". 

(کتاب الحدود، باب بيان الخمر ووعيد شاربها، ج: 6، ص: 2389، ط: دار الفكر)

فتاوی شامی میں ہے:

"‌لا ‌يجوز ‌لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي."

(كتاب الحدود، باب التعزير، ج: 4، ص: 61، ط: سعید)

مجلۃ الاحکام العدلیہ میں ہے :

"(المادة 97) : لا يجوز لأحد أن يأخذ مال أحد ‌بلا ‌سبب ‌شرعي."

(المقالة الثانیة في بیان القواعد الفقھیة، ص: 27، ط: نور محمد کتب خانه)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144711100096
تاریخ18-04-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں