بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عورت کے چہرے پر تل بنانے کا حکم

سوال

عورت کا چہرہ پر تل بنانا کیسا ہے؟

جواب

چہرا  گدوا کر تل بنانا شرعاً  حرام ہے،البتہ زینت کے واسطے گدوائے بغیر عارضی تل ہوتو اس میں شرعاً مضائقہ نہیں، بشرطیکہ اس میں غیر کی مشابہت نہ ہو۔

مرقاۃ المفاتیح میں ہے:

"وعن أبي جحيفة - رضي الله عنه - «أن النبي - صلى الله عليه وسلم - نهى عن ثمن الدم، وثمن الكلب، وكسب البغي، ولعن آكل الربا وموكله، ‌والواشمة والمستوشمة، والمصور» . رواه البخاري.

(‌والواشمة) أي: المرأة التي تشم، في النهاية: الوشم أن يغرز الجلد بإبرة، ثم يحشى بكحل أو نيل فيزرق أو يخضر (والمستوشمة) : أي: التي يفعل ذلك بها: وإنما نهي عنه لأنه من فعل الفساق والجهال، ولأنه تغيير خلق الله."

(کتاب البیوع، ج:5، ص:1895، ط:دار الفکر)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144710101563
تاریخ13-04-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں