بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مسجد کی صف کی جگہ جوتے اتارنا

سوال

کیا مسجد کی آخری صف کی 4،  5 انچ کی جگہ جوتے اتارنے کی جگہ میں استعمال ہوسکتی ہے کہ نہیں؟

جواب

اگر یہ جگہ صف کے درمیان میں  رکھی گئی ہے جس سے صف کے درمیان میں خلل آتا ہے تو اس کا حکم یہ ہے کہ مسجد کی صفوں کو مکمل اور سیدھا رکھنا شرعاً اہم ہے، اس لیے صف میں جگہ خالی چھوڑنا درست نہیں۔البتہ اگر وہ جگہ صف کے پیچھے ہو یا کونے میں اتنی جگہ ہو  کہ کوئی نمازی کھڑا نہ ہو سکے اور صف میں خلل بھی نہ آئے تو عارضی طور پر وہاں جوتے رکھنے کی گنجائش ہو سکتی ہے۔ البتہ پھر بھی مسجد سے باہر جوتے اتارنےکی مستقل جگہ بنانی چاہیئے ۔وجہ یہ ہے کہ اس جگہ کا حکم شرعی مسجد کا ہے اور ایسی جگہ کو  اس کی حیثیت سے نکال نہیں سکتے ہیں۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

" ودخول المسجد متنعلا مكروه، كذا في السراجية ."

( کتاب الکراھیة،الباب الخامس  فی آداب المسجد، 321/5، ط: المطبعة الكبرى الأميرية ببولاق مصر )

فتاوی شامی میں ہے:

"قلت: لكن إذا خشي تلويث فرش المسجد بها ينبغي عدمه وإن كانت طاهرة. وأما المسجد النبوي فقد كان مفروشا بالحصى في زمنه صلى الله عليه وسلم بخلافه في زماننا، ولعل ذلك محمل ما في عمدة المفتي من أن دخول المسجد متنعلا من سوء الأدب تأمل."

( کتاب الصلاۃ، باب ما یفسد الصلاۃ وما یکرہ فیھا،657/1، ط: سعید )

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144710100684
تاریخ02-04-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں