بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تو اپنی والدہ کے گھر جاکر میرے نکاح میں نہیں ہوتی کہنے سے نکاح کا حکم

سوال

میری بہن کے شوہر کا مزاج ہر وقت غصے والا رہتا ہے، بے انتہا شک، لڑائی جھگڑے کا معمول ہے، تین بچوں کی  وجہ سے بہن کمپرومائز کررہی ہے۔

ابھی حال میں اتوار والے دن تمام بہنوں کی عید کی دعوت تھی تو اس بہن کو بھی بلایا تھا، دعوت میں آنے سے پہلے بہن نے اپنے شوہر سے کہا کہ ”میں اپنی والدہ کے گھر دو دن رک جاؤں گی اور منگل والے دن والدہ اور باقی بہنوں اور ان کے بچوں کے ساتھ چڑیا گھر جاؤں گی بچوں کو لےکرتو آپ سے اجازت درکار ہے، اس پر شوہر نے کہا جو مرضی چاہے کرو ویسے بھی تو اپنی ماں کے گھر  جاکر میرے نکاح میں نہیں ہوتی ہے تو میرے نکاح میں صرف میرے گھر ہوتی ہے“ اس کے بعد اتوار کو دعوت میں آئے اور چھوڑ کر چلے گئے، اب اس صورت میں نکاح کا کیا حکم ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں شوہر کے مذکورہ جملے ”جو مرضی چاہے کرو ویسے بھی تو اپنی ماں کے گھر  جاکر میرے نکاح میں نہیں ہوتی ہے تو میرے نکاح میں صرف میرے گھر ہوتی ہے“ میں غصے کا اظہار ہے کہ اپنی والدہ کے گھر ہونے کی صورت میں میرا آپ پر زور اور تسلط نہیں ہوتا، لہذا شرعاً ان جملوں سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، دونوں کا نکاح برقرار ہے، البتہ آئندہ ایسے جملے بولنے میں احتیاط کی جائے۔  

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"ولو قال لها ‌لا ‌نكاح ‌بيني وبينك أو قال لم يبق بيني وبينك نكاح يقع الطلاق إذا نوى."

(كتاب الطلاق، الباب الثاني فى ايقاع الطلاق، الفصل الخامس في الكنايات في الطلاق، ج:1، ص:375، ط:رشيدية)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144710100624
تاریخ01-04-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں