بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 جُمادى الأولى 1448ھ 22 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ٹیک کی پوسٹنگ کے کام کی اجرت

سوال

ایف بی آر اور آن لائن فائلر کرنا اور آن لائن ٹیکس رجسٹریشن  اور آن لائن سلیز ٹیکس جمع کرنے کا کام کرنا  ٹھیک ہے؟ اور کمائی حلال ہے؟

جواب

سائل کا سوال واضح نہیں ہے۔ تاہم سوال کا مقصد یہ معلوم ہوتا ہے کہ مختلف افراد اور کمپنیوں کو حکومتی ای بی آر کے پورٹل پر ٹیکس فائلنگ کی خدمت  فراہم کرنا کیسا ہے اوراس سے حاصل ہونے والی اجرت کا کیا حکم ہے؟

مذکورہ کام یعنی کسی کمپنی یا فرد کے ٹیکس سے متعلقہ معلومات ایف بی آر کے پورٹل پر پوسٹ کرنا ایک جائز خدمت ہے اور اس کے عوض اجرت کمانا حلال ہے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

" ومنها أن يكون مقدور الاستيفاء - حقيقة أو شرعا فلا يجوز استئجار الآبق ولا الاستئجار على المعاصي؛ لأنه استئجار على منفعة غير مقدورة الاستيفاء شرعا. ومنها أن لا يكون العمل المستأجر له فرضا ولا واجبا على الأجير قبل الإجارة فإن كان فرضا أو واجبا قبلها لم يصح."

(کتاب الاجارہ، فصل اول، ج : 4،ص : 411، دار الفکر)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144710100287
تاریخ29-03-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں