بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جس شخص کو گیس کی شدت کی وجہ سے دورانِ نماز وضوء ٹوٹنے کا ڈر رہتا ہو اُس کا شرعی حکم

سوال

 میں معدے اور گیس کا مریض ہوں، میرے پیٹ میں گیس گردش کرتی رہتی ہے اور نماز کے دوران بہت زیادہ ہو جاتی ہے، جس کی وجہ سے وضو ٹوٹنے کا ڈر رہتا ہے۔  کوئی حل ہو تو ضرور بتا دیں۔

جواب

بصورتِ مسئولہ آپ اولاً کسی ماہر امراض طبیب و ڈاکٹر سے اپنا مکمل علاج و معالجہ کراوئیں ، دوائی اور پرہیز وغیرہ کے ذریعہ اِس بیماری کو دور کرنے کی کوشش کی جائے۔ چوں کہ آپ کو مسلسل خروجِ ریح کا مرض لاحق نہیں ہے، بلکہ نماز کو باوضو ادا کرنا ممکن ہے، فقط دورانِ نماز وضوء ٹوٹنے کا ڈر رہتا ہے،لہذا موجودہ صورتحال میں آپ ”شرعی معذور“ نہیں ہیں، لہذا آپ کے لیے نماز کو وضوء کر کے ادا کرنا ضروری ہے، بہتر یہ ہے کہ نماز کی ادائیگی سے قبل چہل قدمی اور قضائے حاجت کا معمول بنائیں، تاکہ اس طرح کی صورتِ حال کی وجہ سے پریشان نہ ہوں اور پھر اطمینان سے نماز ادا کریں۔

فتاویٰ عالمگیری میں ہے:

 "شرط ثبوت العذر ابتداءً أن یستوعب استمراره وقت الصلاة کاملاً، وهو الأظهر، کالانقطاع لایثبت مالم یستوعب الوقت کله ..."

(كتاب الطهارة، الباب السادس، الفصل الرابع، ج: 1، ص:40، ط: دارالفكر)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144710100153
تاریخ28-03-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں