طلاق کو ایسے شرط پر معلق کرنا جس کا وقوع عورت سے ہی معلوم ہو سکتا ہے
سوال
جواب
واضح رہے کہ جب طلاق کو کسی ایسے شرط پر معلق کیا جائے، جس کا علم صرف اس عورت سے ہی ہو سکتا ہو، تو اس صورت میں عورت کے قول کا اعتبار کیا جاتا ہے، صورتِ مسئولہ میں عورت شرط کے وقوع سے انکاری ہے،ا س لئے کوئی طلاق وقع نہیں ہوئی۔
رد المحتار علی الدر المختار میں ہے :
"ومفهومه أنها لا تطلق بمجرد طهرها من الحيضة الأخرى بل لا بد من الإخبار لما مر من أن ما لا يعلم إلا منها يتعلق بإخبارها."
(کتاب الطلاق، باب التعلیق، مطلب في اختلاف الزوجين في وجود الشرط، ج :3، ص :362، ط : سعید)
فقط والله أعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

