بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

صدقہ فطر کا شرعی حکم اور سال 1447ھ / 2026ء کے لیے فطرانے کی مقدار

سوال

صدقہ فطر کیا ہے؟

جواب

صدقہ فطر (جسے عام زبان میں فطرانہ بھی کہتے ہیں) ایک مقررہ مالی صدقہ ہے جو عید الفطر کی صبح ہر اس مسلمان پر واجب ہوتا ہے جو اپنی بنیادی ضرورت سے زائد نصاب (یعنی ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت) کے برابر مال یا سامان کا مالک ہو۔ یہ صدقہ اپنی اور اپنی نابالغ اولاد کی طرف سے ادا کرنا واجب ہے۔

اسے عید کی نماز کے لیے جانے سے پہلے ادا کرنا افضل ہے، البتہ رمضان المبارک میں بھی پیشگی ادا کیا جا سکتا ہے۔

صدقہ فطر میں چار اجناس (گندم، جو، کھجور، کشمش) میں سے کسی ایک جنس کا دینا یا اس کی بازاری قیمت کا دینا ضروری ہے، تفصیل مندرجہ ذیل ہے:

1۔ گندم: نصف صاع یعنی پونے دو کلو، تاہم احتیاطاً دو کلو یا اس کی بازاری قیمت دینی چاہیے۔

2۔ جو: ایک صاع یعنی تقریباً ساڑھے تین کلو یا اس کی بازاری قیمت۔

3۔ کھجور: ایک صاع یعنی تقریباً ساڑھے تین کلو یا اس کی بازاری قیمت۔

4۔ کشمش: ایک صاع یعنی تقریباً ساڑھے تین کلو یا اس کی بازاری قیمت۔

مذکورہ چار اجناس میں سے کسی ایک کی بازاری قیمت فقیر کی حاجت پوری کرنے کے لیے بطورِ صدقہ فطر دینا زیادہ بہتر اور آخرت میں ثواب کا باعث ہے۔

کراچی اور اس کے مضافات کے لیے امسال 1447ھ بمطابق 2026ء جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کے دارالافتاء کی جانب سے صدقہ فطر کی مقدار درج ذیل مقرر کی گئی ہے:

گندم: 280 روپے، جو:1,020 روپے، کھجور:1,870 روپے، کشمش:4,200  روپے۔

نوٹ: مذکورہ بالا اشیاء کی قیمتوں کا اندازہ مؤرخہ 25 شعبان 1447ھ بمطابق 14 فروری 2026ء کے نرخ کے حساب سے کیا گیا ہے۔ کراچی کے علاوہ دیگر شہروں کے رہائشی اپنے مقامی بازار کے موجودہ نرخ کے مطابق ان مقررہ اوزان کی قیمت معلوم کر کے صدقہ فطر ادا کریں۔

صحیح بخاری میں ہے :

"عن ‌عياض بن عبد الله بن سعد بن أبي سرح العامري : أنه سمع ‌أبا سعيد الخدري رضي الله عنه يقول:"كنا نخرج زكاة الفطر، صاعا من طعام، أو صاعا من شعير، أو صاعا من تمر، أو صاعا من أقط،أو صاعا من ‌زبيب."

(کتاب الصوم، باب صدقة الفطر صاع من طعام، ج: 2، ص: 131، ط: دار الفكر)

سننِ نسائی میں ہے :

"عن ‌ابن عباس قال: ذكرفي صدقة‌ الفطر قال: صاعا من بر أو صاعا من تمر أو صاعا من شعير أو صاعا من سلت."

(کتاب الزكاة، باب مكيلة صدقة الفطر، ج: 5، ص: 51، ط: المكتبة النجارية بالقاهره)

فتاوی ہندیہ میں ہے :

"وانما تجب صدقة الفطر من اربعة اشیاء من الحنطة و الشعیر والتمر و الزبیب."

(باب صدقة الفطر، ج:1، ص:191، ط: مکتبة حقانیة)

وفیہ ایضا:

"وهي نصف صاع من بر او صاع من شعیر او تمر."

(باب صدقة الفطر، ج:1، ص:191، ط: مکتبة حقانیة)

فتاوی شامی میں ہے:

"ودفع القیمة أي الدراهم أفضل من دفع العین علی المذهب المفتي به، لأن العلة في أفضلیة القيمة کونها أعون علي دفع حاجة الفقیر."

(باب صدقة الفطر، ج: 2، ص: 366، ط: سعید)

  فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144709102249
تاریخ13-03-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں