بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

والدہ کو حج کرانے کے لئے رقم ان کے ہاتھ میں دینا ضروری نہیں

سوال

کیا والدہ کو حج کرانے کے لئے رقم ان کے ہاتھ میں دینا ضروری ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں  والدہ کے ہاتھ میں حج کی رقم دینا ضروری نہیں،متعلقہ ایجنٹ یا کمپنی کو آن لائن ادائیگی کافی ہے ، کیوں کہ مقصود حج کرانا ہےاور وہ کسی بھی طریقے سے پورا ہو جاتا ہے۔

البتہ والدہ کو اپنی زکاۃ کی رقم دینا یا اپنی زکاۃ کی رقم سے انہیں حج کروانا ،جائز نہیں ہوگا۔

بدائع الصنائع میں ہے :

"وكذلك حكم الحق الثابت في المحل عرف هذا فنقول للمالك أن يتصرف في ملكه أي تصرف شاء."

(کتاب الدعوٰی، فصل فی بیان حکم الملک و الحق الثابت فی المحل، ج :6، ص :263، ط :سعید)

رد المحتار علی الدر المختار میں ہے :

"ولا يخفى أن وصي الميت إذا امتنع عن القيام بالوصية إلا بأجر لا يجبر على العمل لأنه متبرع ولا جبر على المتبرع."

(کتاب الوصایا، باب الوصی، ج :6، ص :713، سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144709102154
تاریخ12-03-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں