بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

29 ربیع الثانی 1448ھ 12 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مردے کو دفن کرنے کے بعد قبر پر پانی ڈالنے کاشرعی حکم

سوال

مردے کو دفن کرنے کے بعد قبر پر پانی ڈالنے کاشرعی حکم کیا  ہے؟

جواب

مردہ کو دفن کرنے کے بعد  مٹی جمانے اور قبر کی حفاظت کی غرض سے پانی چھڑکنا مستحب ہے، نیز اگر بعد میں بھی قبر کی مٹی منتشر ہوگئی ہوتو قبر کو ٹھیک کرکے پانی چھڑکنے میں بھی   کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ 

فتاوی شامی میں ہے :

"(ولا بأس برش الماء عليه) حفظا لترابه عن الاندراس

(قوله ولا بأس برش الماء عليه) بل ينبغي أن يندب؛لأنه صلى الله عليه وسلم فعله بقبر سعد» كما رواه ابن ماجه «وبقبر ولده إبراهيم» كما رواه أبو داود في مراسيله «وأمر به في قبر عثمان بن مظعون» كما رواه البزار، فانتفى ما عن أبي يوسف من كراهته لأنه يشبه التطيين حلية."

(باب صلاۃ الجنازۃ،مطلب فی دفن المیت،ج:2،ص:237،سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144709102110
تاریخ11-03-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں