بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 جُمادى الأولى 1448ھ 26 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

روزے کی حالت میں خون دینے کا حکم

سوال

روزے کی حالت میں مجبوری سے خون دے دیا تو کیا اس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے؟

جواب

روزے کی حالت میں کسی مریض کو خون دینے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔ البتہ اتنا خون دینا مکروہ ہے جس سے روزے دار کو کمزوری  لاحق ہو جائے اور روزہ توڑنا پڑجائے  لہٰذا اگر خون دینا فوری ضروری نہ ہو اور کمزوری کا اندیشہ ہو تو  روزہ افطار کے بعد خون کا عطیہ دینا چاہیے۔

فتاویٰ عالمگیری میں ہے:

"ولا بأس بالحجامة إن أمن على نفسه الضعف أما إذا خاف فإنه يكره وينبغي له أن يؤخر إلى وقت الغروب وذكر شيخ الإسلام شرط الكراهة ضعف يحتاج فيه إلى الفطر، والفصد نظير الحجامة هكذا في المحيط."

(كتاب الصوم، الباب الثالث فيما يكره للصائم وما لا يكره، ج:1، ص:199، ط:المكتبة الرشيدية كوئته)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144709101944
تاریخ10-03-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں