بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مسجد کی چھت پر فیس لے کر قرآن کریم کی تعلیم دینا

سوال

بچوں سے فیس لے کر مسجد کی چھت پر قرآن مجید پڑھانا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

مسجد کی چھت مسجد ہی کے حکم میں ہے، اور مسجد میں مستقل مدرسہ بنانا  جائز نہیں ہے، ہاں   ضرورت اور جگہ کی تنگی کی وجہ سے  قرآن اور دین کی ضروریات کی تعلیم مسجد کے آداب کا لحاظ رکھتے ہوئے مسجد کے اندر دینا جائز ہے،  پس  مسجد کے احترام کی رعایت رکھتے ہوئے مسجد کی چھت پر قرآن مجید کی تعلیم کے لیے عارضی درس گاہ بنانا  جائز ہوگا ۔

تاہم مسجد میں قائم کردہ مدرسہ میں بچوں کو فیس لے کر تعلیم دینا شرعاً مکروہ ہے،  البتہ اگرمدرسہ کی اخراجات و  ضروریات کا کوئی انتظام نہ ہو اور فیس لیے بغیر مدرسہ کا نظام چلانا ممکن نہ  ہو تو اس صورت میں فیس لےکر مسجد میں پڑھانے کی گنجائش ہے، تاہم  مدرسہ کی  انتظامیہ کو چاہیے کہ جلد از جلد مدرسہ  کے لیے متبادل جگہ  کابندوبست کرکے مدرسہ  وہاں منتقل کردیں ۔

البحر الرائق  میں ہے:

"فقد قال الله تعالى: {وأن المساجد لله} [الجن: 18] وما تلوناه من الآية السابقة فلايجوز لأحد مطلقًا أن يمنع مؤمنًا من عبادة يأتي بها في المسجد؛ لأنّ المسجد ما بني إلا لها من صلاة واعتكاف وذكر شرعي وتعليم علم وتعلمه وقراءة قرآن، ولايتعين مكان مخصوص لأحد."

(کتاب الصلاۃ،باب الحدث في الصلاة، فصل استقبال القبلة ... 36/2، ط: دارالکتاب الإسلامی)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"‌ولو ‌جلس ‌المعلم ‌في ‌المسجد والوراق يكتب، فإن كان المعلم يعلم للحسبة والوراق يكتب لنفسه فلا بأس به؛ لأنه قربة، وإن كان بالأجرة يكره إلا أن يقع لهما الضرورة، كذا في محيط السرخسي."

(كتاب الكراهية، الباب الخامس في آداب المسجد، 5/ 321، ط: رشیدیة)

فتاوی قاضی خان میں ہے :

"ويكره أن يخيط في المسجد لأنه أعد للعبادة دون الإكتساب وكذا الوراق والفقيه إذا كتب بأجرة أو معلم إذا علم الصبيان بأجرة. وإن فعلوا بغير أجر فلا بأس به."

(کتاب الطھارۃ، فصل فی المسجد، 1/ 43، ط: زکریا)

فقط واللہ أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144709101817
تاریخ08-03-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں