بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سحری کرتے ہوئے اذان ہوجائے تو کیا کرنا چاہیے ؟

سوال

کیا سحری کرتے ہوئے اذان ہو جائے تو فورا سحری  بند کر دینا چاہیے یا  یہ کہ  سامنے پڑا كھانا ختم کرنا چاہیے؟

جواب

صورت مسئولہ میں صبح صادق ہوجانے کے بعد کچھ کھا نا پینا جائز نہیں ، اگر کسی نے فجر کی اذان شروع ہونے کے بعد کچھ کھا پی لیا ، تو اس کا روزہ نہیں ہوگا ، روزہ کی قضاء لازم ہوگی ، نیز بقیہ دن روزہ داروں کی طرح رہنا ضروری ہوگا۔

فتاوی ہندیہ میں ہے : 

"ووقته من حين يطلع الفجر الثاني، وهو المستطير المنتشر في الأفق إلى غروب الشمس وقد اختلف في أن العبرة لأول طلوع الفجر الثاني أو لاستطارته وانتشاره فيه. قال شمس الأئمة الحلواني القول الأول أحوط والثاني أوسع هكذا في المحيط، وإليه مال أكثر العلماء"۔

(كتاب الصوم ، ج : 1 ، ص : 194 ، ط : دارالفكر بيروت)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144709101682
تاریخ06-03-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں