بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بھائی کو زکوۃ دینا

سوال

اگر میں اپنی زکوٰۃ اپنے بھائی کو دینا چاہوں جو امی کے ساتھ رہتا ہے، لیکن امی اپنا خرچہ اپنی پنشن کے پیسوں سے خود کرتی ہیں۔ البتہ میرا بھائی بھی تھوڑی بہت رقم دے دیتا ہے، کیوں کہ اس کے اپنے کاروبار میں کافی قرض ہے جس کی وجہ سے وہ پریشان ہے۔ تو کیا بھائی کے قرض اتارنے کی غرض سے اسے زکوٰۃ دی جا سکتی ہے، جبکہ وہ مالی طور پر اتنا پریشان ہے کہ عید کے کپڑے بھی نہیں لے سکتا اور مشکل سے گزارا ہو رہا ہے؟

مزید یہ کہ وہ شادی شدہ بھی ہے۔ والد صاحب کی وفات سے پہلے جو کاروباری قرض والد صاحب نے لیا تھا وہ بھی ابھی تک ادا نہیں ہو سکا، اور کسی بھی بھائی کی اتنی حیثیت نہیں کہ وہ اس قرض کو ادا کر سکے۔

تو کیا میں زکوٰۃ کی رقم اپنے اس بھائی کو دے سکتا ہوں جو والد صاحب کا کاروبار سنبھال رہا ہے تاکہ قرض ادا ہو سکے؟

جواب

صورت مسئولہ میں اگر آپ کا بھائی  سید نہیں ہے اور واقعی مالی تنگی میں مبتلا ہے اور اس کے پاس اتنا مال یا آمدن نہیں کہ وہ اپنا  قرض ادا کر سکے یا  قرض منہا کرنے کے بعد  اس کی ملکیت میں ضرورت  اصلیہ سے زائد نصابِ زکوٰۃ ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر یا اس سے زائد رقم بچتی ہو، تو شرعاً آپ کا اسے زکوٰۃ دینا جائز ہو گا۔
نیز مستحق زکوۃ  بھائی کو زکوٰۃ دینا دہرے اجر کا  باعث ہے، یعنی ایک صلہ رحمی کا ثواب، اور دوسرا ادائیگی زکوٰة  کا ثواب  ملتا ہے۔
بھائی زکوٰة  وصول کرنے کے بعد اگر اپنی اور سائل کی  والدہ کو  اس میں سے کچھ دیتا ہے، تو اس سے سائل کی زکوٰة   کی ادائیگی پر کوئی اثر نہیں ہوگا۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"ويجوز دفع الزكاة إلى من سوى الوالدين والمولودين من الأقارب ومن الإخوة والأخوات وغيرهم؛ لانقطاع منافع الأملاك بينهم ولهذا تقبل شهادة البعض على البعض والله أعلم."

(کتاب الزکوۃ , فصل رکن الزکوۃ جلد 2 ص: ۵۰ ط: دارالکتب العلمیة)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144709101561
تاریخ05-03-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں