بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

روزے کی حالت میں ہمبستری کرنے اور کفارے کا حکم

سوال

میں بیوی سے روزے کی حالت میں ہمبستری کیے بغیر نہیں رہ سکتا، اور میرا حال یہ ہے کہ کمزوری کی وجہ سے دو ماہ کا کفارہ بھی نہیں ادا کر سکتا، تو میرے لیے کیا حکم ہے؟

جواب

روزہ کی حالت میں بیوی سے ہمبستری کرنا شرعاً ناجائز و حرام ہے، ایک مسلمان پر لازم ہے کہ ہر ممکن کوشش و تدبیر کر کے خود کو حرام میں مبتلاء ہونے سے بچائے، اس لیے سائل کو چاہیے کہ روزے کا مکمل احترام کرے، اور شرعی تعلیمات کی پاسداری کرے۔اور اگر روزے کی حالت میں ہمبستری کی گئی تو سخت گناہ گار ہو گا،اور قضاء و کفارہ دونوں لازم ہوں گے۔

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"من جامع عمداً في أحد السبيلين فعليه القضاء والكفارة، ولايشترط الإنزال في المحلين، كذا في الهداية. وعلى المرأة مثل ما على الرجل إن كانت مطاوعةً، وإن كانت مكرهةً فعليها القضاء دون الكفارة... إذا أكل متعمداً ما يتغذى به أو يتداوى به يلزمه الكفارة، وهذا إذا كان مما يؤكل للغذاء أو للدواء فأما إذا لم يقصد لهما فلا كفارة وعليه القضاء، كذا في خزانة المفتين ... وإذا أصبح غير ناو للصوم ثم نوى قبل الزوال ثم أكل فلا كفارة عليه، كذا في الكشف الكبير".

(الفتاوى الهندية ، ج:1، ص:205)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144709101559
تاریخ05-03-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں