بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

روزہ کی حالت میں بے ہوش ہو جانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا

سوال

روزہ کی حالت میں بے ہوش ہو جانے کی صورت میں روزہ افطار کروا سکتے ہیں یا نہیں؟

جواب

روزے کی حالت میں محض بے ہوشی طاری  ہو نے سے ازخود  روزہ فاسد نہیں ہوتا، تاہم  روزے میں بے ہوش ہو جانے والے شخص کو ہوش میں لانے کے کیے اسے پانی یا دوا پلانے سے  روزہ فاسد ہو جائے گا، جس کی قضاء  لازم ہوگی، کفارہ لازم نہیں ہوگا۔

افطار کروانا  جائز ہے۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"وكذا ‌العقل، ‌والإفاقة ‌ليسا ‌من ‌شرائط ‌صحة ‌الأداء حتى لو نوى الصوم من الليل ثم جن في النهار أو أغمي عليه يصح صومه في ذلك اليوم"

(کتاب الصوم،فصل شرائط أنواع الصيام،ج: 2، ص:83 ، ط: دار الكتب العلمية)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144709101544
تاریخ05-03-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں