بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بحالت روزہ ڈپریشن کی دوا کھانےکا حکم

سوال

کیا روزے کی حالت میں ڈپریشن کی دوا کھا سکتے ہیں؟

جواب

 روزے کی حالت میں ڈپریشن کی دو ا استعمال کرنے سے پہلے ڈپریشن کو مصروفیت یا کسی اور سبب سے دور کرنے کی کوشش کی جائے  ،اگر  ڈپریشن دور ہوجائےاور طبیعت کو چین اور سکون میسر ہوکر   باآسانی روزہ رکھا جاسکتا ہو ،تو پھر ددااستعمال نہ کی جائے ،اور روزہ رکھا جائے ۔

ہاں اگر ڈپریشن اس قدر شدید ہو کہ دواکے بغیراس کا دوسراکوئی حل کارآمد ہی نہ  ہو  ،اور طبیعت  مسلسل اضطراب  اور  بےچینگی کے عالم میں ہو ،جسے بغیر دوا کے کنٹرول نہ کیا جاسکتا ہو ، او ر روزہ کی وجہ سے مرض اپنے  تسلسل پر ہی برقرار ہو، یا اس میں اضافے کا قوی اندیشہ اور خوف ہو ، تو ایسی صورت میں ڈپریشن کے علاج کے لیےدواوغیرہ کا  استعمال ماہر ڈاکٹر کی رائے کے بعد جائز ہے  ، البتہ اس سے روزہ ٹوٹ جائے گااور  تندرست ہونے کے بعدصرف قضا  لازم ہوگی  کفارہ لازم نہ ہوگا ۔

فتاویٰ ہندیہ میں ہے :

" المريض إذا خاف على نفسه التلف أو ذهاب عضو يفطر بالإجماع، وإن خاف زيادة العلة وامتدادها فكذلك عندنا، وعليه القضاء إذا أفطر كذا في المحيط. ثم معرفة ذلك باجتهاد المريض والاجتهاد غير مجرد الوهم بل هو غلبة ظن عن أمارة أو تجربة أو بإخبار طبيب مسلم غير ظاهر الفسق كذا في فتح القدير. والصحيح الذي يخشى أن يمرض بالصوم فهو كالمريض هكذا"

(الباب الرابع فيما يفسد وما لا يفسد،ج:1،ص:207،ط:دارالفکر )

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144709101434
تاریخ04-03-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں