بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ناپاکی کی حالات میں روزہ رکھنا

سوال

ایک عورت حالت حیض میں تھی  وہ رات کو پاک ہوئی مگرغسل نہیں کیا اورسحری کرکے  روزہ رکھ لیا، اب وہ اس طرح کرسکتی ہے کہ وہ دن کو 10 یا 11 بجے نہالیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگرکسی عورت  نے (ناپاکی) کی حالت میں سحری کرکے روزہ رکھا تو اس سے روزہ کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا،  روزہ کے لیے جنابت سے پاک ہونا ضروری نہیں ہے،تاہم بہتر یہی  ہے کہ غسل  کرکے سحری کرے،  البتہ غسل  جنابت میں اتنی تاخیر کرنا  کہ نماز کا وقت نکل جائے اور نماز قضا ہوجائے ، اس سے روزہ مکروہ ہوگا اور نمازترک کرنے کا گناہ بھی ہوگا۔

فتاوی شامی  میں ہے:

"(أو أصبح جنبًا و) إن بقي كل اليوم ... (لم يفطر)."

(كتاب الصوم، باب ما يفسد الصوم وما لا يفسده، ج:2، ص:400، ط: سعید)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

‌"الجنب إذا أخر الاغتسال إلى وقت الصلاة لا يأثم. كذا في المحيط....

قد نقل الشيخ سراج الدين الهندي الإجماع على أنه لا يجب الوضوء على المحدث والغسل على ‌الجنب والحائض والنفساء قبل وجوب الصلاة أو إرادة ما لا يحل إلا به. كذا في البحر الرائق كالصلاة وسجدة التلاوة ومس المصحف ونحوه. كذا في محيط السرخسي".

(كتاب الطهارة، الباب الثاني، الفصل الثالث في المعاني الموجبة للغسل، ج:1، ص:16، ط:دار الفکر بیروت)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144709101401
تاریخ03-03-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں