بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بچہ روزہ توڑے تو قضا وکفارہ کا حکم

سوال

اگر بچپن میں جان کر روزہ کھول لیا تو اس کا کفارہ کیا ہوگا؟ اگر دو  ماہ کے روز ےنہ رکھے یا ساٹھ مسکینوں کو کھانا بھی نہ کھلا ئے تو کیا کفارہ ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر   بچہ  اس وقت نابالغ تھا اور اس حالت میں اس نے  روزہ کھول لیا تھا  تو اس کی  قضا اور کفارہ لازم نہیں۔

فتاوی شامی میں ہے:

"وفي أحكام الأسروشني الصبي إذا أفسد صومه لا يقضي؛ لأنه يلحقه في ذلك مشقة بخلاف الصلاة فإنه يؤمر بالإعادة؛ لأنه لا ‌يلحقه ‌مشقة."

(کتاب الصوم، ج: 2، ص: 409، ط: سعید)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144709101374
تاریخ03-03-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں