بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بچے کے ناف اور بال کا شوپیس بنا کر دیوار پر لٹکانا

سوال

میرا ایک بیٹا ہے، اس کی پیدائش پر اس کی ناف جو جڑ کر گری ہے، وہ ایک خاتون نے اٹھالی، اور اس کے پیدائشی بال بھی کچھ لے لیے ،وہ ان چیزوں کا ایک شو پیس بنا کر لائی ہے جسے دیوار پر لٹکانا ہوتا ہے۔ کیا اسے لٹکانے کی شریعت میں اجازت ہے ؟

جواب

واضح رہے کہ نومولود بچے کے بال اور ناف انسان کے اجزاء ہیں،اور اس کے بارے میں حکم یہ ہے کہ ان کو دفن کردیا جاۓ،لہذا ان چیزوں کا شوپیس بناکر دیوار پر لٹکانا درست نہیں،بلکہ ان کو زمین میں دفن کردینا چاہیے۔

شرح مسند ابی حنیفہ میں ملا علی قاری فرماتےہیں:

"(عن ابن عمر قال: انكسفت الشمس) أي تغيرت أوتسودت (يوم مات إبراهيم) وهو من جارية اسمها مارية أهداها له المقوقس صاحب مصر والاسكندرية (ابن رسول الله صلى الله عليه وسلم وقد ولد في ذي الحجة سنة ثمان من الهجرة وكانت سلمى زوجة أبي رافع مولى رسول الله صلى الله عليه وسلم قابلته، فبشر أبو رافع به النبي صلى الله عليه وسلم، فوهب له عبداً وعِقّ عنه يوم سابعه بكبشين وحلق رأسه يومئذ، وسماه النبي صلى الله عليه وسلم يومئذ وتصدق بزنة شعره ورقاً على المساكين، ودفنوا شعره في الأرض".

 (ذكر إسناده عن عطاء بن السائب بن الماية، ج:1، ص:320/319، ط:دار الكتب العلمية)

تحفة المودود بأحكام المولود میں ہے:

"وفي قصة مارية وإبراهيم أنواع من السنن.....الحادي عشر دفن الشعر في الأرض ولا يلقى تحت الأرجل".

(الباب الثامن فی ذكر تسميته وأحكامها ووقتها، الفصل الأول في وقت التسمية، ص105، ط:مكتبة دار البيان )

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"فإذا قلم أطفاره أو ‌جز ‌شعره ينبغي أن يدفن ذلك الظفر والشعر المجزوز فإن رمى به فلا بأس وإن ألقاه في الكنيف أو في المغتسل يكره ذلك لأن ذلك يورث داء كذا في فتاوى قاضي خان."

(كتاب الكراهية، ج:5، ص:358، ط:دار الفكر)

فقط واللہ أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144709101234
تاریخ02-03-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں