بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 جُمادى الأولى 1448ھ 26 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

روزہ کی حالت میں ٹوتھ پیسٹ کا استعمال کرنا

سوال

روزہ میں ٹوتھ پیسٹ کرناکیسا ہے ؟ 

جواب

 اگر ٹوتھ پیسٹ کرتے وقت اس پیسٹ کے ذرات  حلق میں  چلے جائیں تو اس سے روزہ فاسد ہوجاتا ہے،   اور اگر ذرات نہ بھی جائیں تو جانے کے احتمال ہونے کی وجہ سے روزہ مکروہ ہوگا؛   اس لئے روزہ کی حالت میں ٹوتھ پیسٹ استعمال نہ کرے البتہ خالی ٹوتھ برش استعمال کرنا جائز ہے۔

فتاوی شامی  ميں ہے: 

"(أو دخل حلقه مطر أو ثلج) بنفسه...(قضى) في الصور كلها (فقط)...(قوله: مطر أو ثلج) فيفسد في الصحيح."

(كتاب الصوم باب مایفسد الصوم وما لا یفسدہ ج: 2 ص: 403 /406 ط: ایچ ایم سعید)

فتاوی عالمگیری میں ہے: 

"ولا بأس بالسواك الرطب واليابس في الغداة والعشي عندنا قال أبو يوسف - رحمه الله تعالى - يكره المبلول بالماء، وفي ظاهر الرواية لا بأس بذلك، وأما الرطب الأخضر فلا بأس به عند الكل كذا في فتاوى قاضي خان."

(كتاب الصوم الباب الثالث ج:1 ص: 220 ط: قدیمی کتب خانہ)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144709101203
تاریخ01-03-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں