بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

انفرادی طور پرتراویح پڑھنے میں قراءت کا حکم

سوال

میں اکیلے تراویح میں قرآن پڑھنا چاہتا ہوں ۔توکیا میں قراۃ بالجہر کر سکتا ہوں ؟

جواب

صورت مسئولہ میں سائل اگر انفرادی طور پر تراویحادا کررہا ہو تو اس کے لیے اجازت ہے، خواہ جہری قراء ت کرے یا سری ۔البتہ جہری قراءت افضل ہے۔

تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق میں ہے:

" (‌وخير ‌المنفرد ‌فيما ‌يجهر ‌كمتنفل ‌بالليل) أي إن شاء جهر وهو أفضل ليكون الأداء على هيئة الجماعة ولهذا كان أداؤه بأذان وإقامة أفضل وروي في الخبر أن «من صلى على هيئة الجماعة صلت بصلاته صفوف من الملائكة» ولكن لا يبالغ في الجهر مثل الإمام؛ لأنه لا يسمع غيره وإن شاء خافت؛ لأنه ليس خلفه من يسمعه."

(کتاب الصلاة، فصل الشروع فی الصلاة، ج: 1، ص: 127، ط: المطبعة الكبرى الأميرية بولاق القاهرة)

فقط واللہ أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144709101015
تاریخ28-02-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں