روزےکی حالت میں غیر اختیاری اشیاء کے حلق میں داخل ہونے کا حکم
سوال
اگر روزے کی حالت میں مچھر یا مکھی حلق میں پھنس جائے، اور پیٹ میں چلی جائے، تو کیا اس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے؟ کیا ایسی صورت میں روزے کا کفارہ ادا کرنا ہوگا یا صرف قضا ؟
جواب
روزے کی حالت میں مچھر، مکھی یا ایسی چیزیں جن سے بچنا ناممکن یا دشوار ہو (جیسے گرد و غبار وغیرہ)، اگر خود بخود حلق میں چلی جائیں ، تو اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا اور نہ ہی قضا یا کفارہ لازم آتا ہے۔ البتہ اگر ان چیزوں کو جان بوجھ کر (قصدًا) نگل لیا جائے، تو روزہ ٹوٹ جائے گا اور اس کی قضا لازم ہوگی، مگر کفارہ نہیں۔
فتاوی عالمگیری میں ہے :
"وما ليس بمقصود بالأكل، ولا يمكن الاحتراز عنه كالذباب إذا وصل إلى جوف الصائم لم يفطره كذا في إيضاح الكرماني ولو أخذ الذباب، وأكله يجب عليه القضاء دون الكفارة."
(کتاب الصوم، الباب الرابع فيما يفسد وما لا يفسد، النوع الأول ما يوجب القضاء دون الكفارة، ج:1، ص:203، ط:رشیدیة)
فقط والله اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

