بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

رگ میں انجیكشن سے روزے كا حكم

سوال

کیا رگ میں انجیکشن لگانے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے یا نہیں؟

جواب

روزے كے ٹوٹنے كے لیے معدے یا دماغ تك كسی چیز كا عمومی راستے (منہ، ناك وغیرہ) سے پہنچنا ضروری ہے، پس اگر كسی اور راستے سے دوا منتقل كی جائے تو بوقتِ ضرورت بلا كراہت جائز ہے ورنہ مكروہ عمل ہے۔ لہذا رگ میں انجیكشن لگوانے سے روزہ نہیں ٹوٹے گا۔

فتاوی شامی میں ہے:

"قال في النهر؛ لأن الموجود في حلقه أثر داخل من المسام الذي هو خلل البدن والمفطر إنما هو الداخل من المنافذ."

(كتاب الصوم، باب ما یفسد الصوم و ما لا یفسدہ، ج: 2، ص: 395، ط: حلبی)

فقط و اللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144709100279
تاریخ21-02-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں