بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

كمیٹی كے اعلان سے پہلے روزہ ركھنے كا حكم

سوال

 حکومت کے اعلان سے پہلے اگر روزہ رکھا جائے تو کیا یہ روزہ فرض میں شامل ہو گا یا نفل؟

جواب

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ماہِ رمضان کے آغاز و اختتام کا مدار چاند دیکھنے پر رکھا ہے، پس اگر کوئی شخص کھلی آنکھوں سے ماہ ِرمضان کا چاند دیکھ لے تو اس پر رمضان کا روزہ رکھنا لازم ہو جاتا ہے، البتہ ملکی سطح پر اگر حکومت کی جانب سے رؤیتِ ہلال کمیٹی مقرر ہو، جسے ولایت عامہ حاصل ہو تو اس صورت میں رؤیتِ ہلال کمیٹی شواہد کی بنیاد پر اگر چاند ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ صادر کرے تو کمیٹی کا فیصلہ ملکی سطح پہ شرعاً معتبر ہوتا ہے۔ لہذا صورت مسئولہ میں رؤیتِ ہلال کمیٹی کے اعلان سے قبل اپنی آنکھوں سے چاند دیکھے بغیر رمضان کا آغاز کرنا درست نہیں ہوگا، بلکہ از روۓ حدیث یومِ شک کا روزہ رکھنے کی وجہ سے ایسا شخص گناہ گار ہوگا۔

مسند دارمي میں ہے:  

" أخبرنا عبد الله بن سعيد، حدثنا أبو خالد الأحمر، عن عمرو بن قيس، عن أبي إسحاق، عن صلة قال: كنا عند عمار بن ياسر فأتي بشاة مصلية فقال: كلوا، فتنحى بعض القوم، فقال: إني صائم. فقال عمار بن ياسر: «من صام اليوم الذي يشك فيه، ‌فقد ‌عصى ‌أبا ‌القاسم صلى الله عليه وسلم"

(رقم الحدیث،  1047، ج: 2، ط: دار المغنی للنشر و التوزیع)

فقط و اللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144709100003
تاریخ18-02-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں