مسجد یا مدرسہ کے نام پر بینک اکاؤنٹ کھولنے کا شرعی حکم
سوال
اگر مدرسہ کا بینک اکاؤنٹ ہو، تو اس اکاؤنٹ میں مسجد کے سولر کے لئے جمع شدہ رقم(عطیات)رکھی جاسکتی ہے؟
جواب
صورتِ مسئولہ میں اگر مدرسے کا اکاؤنٹ کرنٹ اکاؤنٹ ہے، اور مسجد کی رقم سنبھالنے میں مشکلات ہوں تو ضرورت کی بناء پرمسجد کی رقم کرنٹ اکاونٹ میں رکھی جاسکتی ہے۔حساب الگ الگ محفوظ ہو۔
بینک میں سیونگ اکاؤنٹ کھلوانا اور اس میں کسی بھی قسم کی رقم رکھوانا جائز نہیں ہے۔
درر الحکام میں ہے :
"لأن الثابت بالضرورة يتقدر بقدرها."
(باب الاعتکاف،ج:1،ص:213،داراحیاء الکتب العربیۃ)
فقط واللہ أعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

