بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مسجد یا مدرسہ کے نام پر بینک اکاؤنٹ کھولنے کا شرعی حکم

سوال

 اگر مدرسہ کا بینک اکاؤنٹ ہو، تو اس اکاؤنٹ میں مسجد کے سولر کے لئے جمع شدہ رقم(عطیات)رکھی جاسکتی ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر مدرسے کا اکاؤنٹ کرنٹ اکاؤنٹ ہے، اور   مسجد کی رقم سنبھالنے میں مشکلات ہوں تو ضرورت کی بناء پرمسجد کی رقم کرنٹ اکاونٹ میں رکھی جاسکتی ہے۔حساب الگ الگ محفوظ ہو۔

 بینک میں سیونگ اکاؤنٹ کھلوانا اور اس میں کسی بھی قسم کی رقم رکھوانا جائز نہیں ہے۔

درر الحکام میں ہے :

"لأن الثابت بالضرورة ‌يتقدر ‌بقدرها."

(باب الاعتکاف،ج:1،ص:213،داراحیاء الکتب العربیۃ)

فقط واللہ أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144708102152
تاریخ15-02-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں