بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

وکیل سے موکل کا مال ضائع ہوجانے کی صورت میں نقصان کا حکم

سوال

میں نے اپنے سالے کے لیے وکیل بن کر چائنہ سے مال منگوایا،جس شخص کو مال حوالہ کرنے کو دیا اس پر سالا راضی تھا،لیکن بدقسمتی سے اس نے دھوکہ دیااور مال ڈوب گیا۔
اب نقصان کس پر آئے گا؟

جواب

  واضح رہے کہ وکیل کی حیثیت امین کی ہوتی ہے اورامین کی غفلت کے بغیر مال ضائع ہوجانے کی صورت میں وہ   نقصان کا ذمہ دار نہیں ہوتا ہے۔لہٰذا  صورتِ مسئولہ میں اگر  واقعۃًسائل نے اپنے سالے کی رضامندی سے  ان کی طرف سے وکیل بن کر  جس شخص کو مال  حوالہ کیااور اس شخص نے دھوکہ دیا اور رقم ضائع ہوگئی تو اس نقصان کی ذمہ داری سائل  پر عائدنہیں ہوگی ۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"(ومنها) : أن المقبوض في ‌يد ‌الوكيل بجهة التوكيل بالبيع والشراء وقبض الدين والعين وقضاء الدين - أمانة بمنزلة الوديعة، لأن يده يد نيابة عن الموكل بمنزلة يد المودع، فيضمن بما يضمن في الودائع، ويبرأ بما يبرأ فيها، ويكون القول قوله في دفع الضمان عن نفسه."

(كتاب الوكالة، فصل في الوكيلان هل ينفرد أحدهما بالتصرف فيما وكلا به، ج : 6،ص: 34، ط: دار الكتب العلمية بيروت لبنان)
فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144708102034
تاریخ14-02-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں