بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

میاں بیوی کے باہمی رضامندی سے خلع ہونے کی صورت میں کون سا مال ادا کرنا لازم ہوگا؟

سوال

میری بیٹی کی شادی کو تقریباً ایک سال سے زیادہ عرصہ ہو چکا ہے۔ دونوں کے درمیان اکثر جھگڑے رہتے ہیں، اس لیے اب میری بیٹی خلع لینا چاہتی ہے۔ نکاح کے وقت حق مہر کی آدھی رقم پچاس ہزار روپے ادا کی گئی تھی، جبکہ باقی آدھی رقم پچاس ہزار روپے ابھی واجب الادا ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ خلع کی صورت میں کیا لڑکی کے لیے ادا شدہ پچاس ہزار روپے واپس کرنا ضروری ہوگا؟ یا صرف آدھی مہر کی رقم کے بدلے بھی خلع واقع ہو جائے گی؟ جبکہ شوہر خلع دینے پر تو آمادہ ہے، تاہم وہ خلع کے بدلے کبھی کسی چیز اور کبھی کسی اور چیز کا مطالبہ کرتا رہتا ہے۔

جواب

واضح رہے کہ خلع بھی دیگر مالی عقود کی طرح ایک معاہدہ ہے جو فریقین کی باہمی رضامندی سے طے پاتا ہے۔ لہٰذا اگر بیوی خلع لینے اور شوہر خلع دینے پر کسی متعین رقم یا مال کے بدلے باہم متفق ہو جائیں تو خلع معتبر ہوگا اور اس کے نتیجے میں دونوں کے درمیان ایک طلاقِ بائن واقع ہو جائے گی۔

پس صورتِ مسئولہ میں جب دونوں خلع پر راضی ہیں تو جس مال پر بھی اتفاق ہو جائے—خواہ وہ مہر کی مکمل رقم ہو، آدھی رقم ہو یا کوئی اور متعین رقم یا مال—اتفاق کے بعد مذکورہ خلع شرعاً معتبر ہوگا۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"وأما ركنه فهو الإيجاب والقبول لأنه عقد على الطلاق بعوض فلا تقع الفرقة ولا يستحق العوض بدون القبول."

(کتاب الطلاق، فصل وأما الذي يرجع إلى المرأة ،ج:3،ص: 145،ط.دار الكتاب العربي، سنة النشر 1982. بيروت)

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"‌إذا تشاق الزوجان وخافا أن لا يقيما حدود الله فلا بأس بأن تفتدي نفسها منه بمال يخلعها به فإذا فعلا ذلك وقعت تطليقة بائنة ولزمها المال كذا في الهداية."

(کتاب الطلاق ،الباب الثامن ، ج:1 ،ص:488 ،ط:دار الفکر )

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144708101793
تاریخ11-02-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں