بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

20 ربیع الثانی 1448ھ 03 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اقالۃ کرنے میں کٹوتی کی شرط لگانا جائز نہیں ہے


سوال

ہم بروکروں کے ذریعے لیپ ٹاپ فروخت کرتے ہیں ،اور لیپ ٹا پ کے ساتھ ایک کورس بنام ای کامرس بھی فری دیتے ہیں ، کسی خرابی یا عذر  کی بنیاد پراگرگاہک ہمیں لیپ ٹاپ واپس کرے تو ہم پوری قیمت پر واپس کرتےہیں ، اور اگربغیر  کسی مسئلے کے واپسی  کرے تو ہم 25 فیصد کٹوتی کرتے ہیں ، اور یہ کٹوتی اس لئے کرتے ہیں کہ ہم نے کورس فراہم کیا ہوتاہے جس کی لاگت 3000روپے ہے ، اور بروکر کو کمیشن بھی دیا ہوتا ہے ،کیا اس بنیاد پر ہمارا 25 فیصد کٹؤتی کرنا جائز ہے ، اگر ناجائز ہے تو اس کا متبادل بھی بتادیں ؟

جواب

صورت مسئولہ میں 25 فیصد کٹوتی کےساتھ لیپ  ٹاپ واپس لینا جائز نہیں  ، کیونکہ خریدی ہوئی شے کی واپسی  جس کو شرعاََ اقالہ کہا جاتا ہے اسی قیمت پر ہونا ضروری ہے جس قیمت پر فروخت کی تھی ۔

البتہ یہ کیا جاسکتا ہے کہ واپس لینے کے بجائے  خریدار سے دوبارہ یہ لیپ ٹاپ کم داموں خرید لے بشرطیکہ خریدار نے مکمل قیمت ادا کرکے پہلا سودامکمل کرلیا ہو ۔

 اورشرح المجلہ میں ہے :

"قال العلامۃ سلیم رستم بازرحمہ اللّٰہ:الثالث انھالاتفسدالشرط الفاسد وان لم تصح تعلیقھا بہٖ بل یکون الشرط لغوًافلو تقایلاعلٰی ان یوخرالمشتری الثمن سنۃ اوعلٰی ان یحط منہ خمسین صحت الاقالۃ لاالتاخیر والحط."

(کتاب البیوع،الفصل الخامس فی الاقالة، ص:91، المادۃ:190، ط: دارالاشاعة العربیة(

الجوہرۃ النیرۃ میں ہے:

"(الإقالة جائزة في البيع بمثل الثمن الأول) ؛ لأن العقد حقهما فيملكان رفعه."

(کتاب البیوع،باب الاقالة،ج:1،ص: 207، ط:المطبعة الخیریة)

العنایہ شرح الھدایہ میں ہے:

"(فإن شرطا أكثر منه أو أقل فالشرط باطل ويرد مثل الثمن الأول والأصل في ذلك أن الإقالة فسخ في حق المتعاقدين) ولهذا بطل ما نطقا به من الزيادة على الثمن الأول والنقصان منه."

(کتاب البیع، باب الاقالة، ج:6، ص:487، ط:دار الفکر)

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"‌وأما ‌حكمه ‌فثبوت ‌الملك في المبيع للمشتري وفي الثمن للبائع إذا كان البيع باتا."

( کتاب البیوع، الباب الأول في تعريف البيع، ج:3، ص: 3، ط: رشیدیة)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144708101771

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں