لکی ڈرا کے ٹکٹ اورمخصوص رقم کی خریداری پر دکاندار کی طرف سےلکی ڈرا کےٹکٹ ملنےکاحکم
سوال
میں دبئی میں ہوں،1: یہاں لکی ڈرا کے ٹکٹ ملتے ہیں،اس سے بہت بڑے انعامات نکلتے ہیں،ملینز دراہم، گاڑیاں وغیرہ ۔کیا یہ جائز ہے؟2: اس کے علاوہ ہم مارکیٹ سے کچھ خریدتے ہیں، ایک حد سے زیادہ سامان خریدیں یا پاکستان پیسے بھیجیں ،تو اس پہ بھی ٹکٹ ملتا ہے جو لکی ڈرا میں شامل ہوتا ہے،اس سے بھی اسی طرح انعام نکلتا ہے۔کیا یہ جائز ہے؟
جواب
صورت مسئولہ میں لکی ڈرا کی جو ٹکٹ خریدی جاتی ہے، ظاہرہے کہ اس ٹکٹ کی بذاتہ خود کوئی قیمت نہیں ہے، بلکہ اصل قیمت اس کے پیچھے متوقع دراہم ودیگر انعامات کی ہے، اور ٹکٹ لینے کے بعد بعض کو اپنے دیےہوئےپیسوں سے زیادہ پیسے مل جاتے ہیں،اور بعض کو اپنے پیسوں سے کم، یا بالکل نہیں ملتے، یہ صورت شرعا جوئےاور سودکے حکم میں آتی ہے،اور سود اور قمار دونوں کی حرمت صریح اور قطعی نصوص سے ثابت ہے۔
1: جہاں تک سوال کے دوسرے جز کا تعلق ہے، تو اس میں خریدی ہوئی چیز کی بذاتہ قیمت ہے، باقی اضافی ٹکٹ یہ بائع کی طرف سے ایک انعام ہے، لیکن اس کے جواز کے لئے چند شرائط ہیں:
1: اس انعام کی وجہ سے اس چیز کی قیمت میں اضافہ نہ کیا گیاہو،
2: مشتری(خریدنے والا)اس چیز یا اتنی قیمت کی خریداری اپنی حاحت کی بنا پر کریں، اصل مقصد وہ انعام نہ ہو،
3: بائع (بیچنےوالا) اس ٹکٹ وانعام کے ذریعےاپنی ناقص مصنوعات فروخت نہ کریں،
لہذا اگر ان شرائط کی پاسداری کرتے ہوئےاتنی قیمت( جتنے کی خریداری پر انعام کاوعدہ ہے) یا اس چیز کی(جس کی خریداری پرانعام کاوعدہ ہے) خریداری کی جائے،تو جائز ہے، ورنہ یہ معاملہ ناجائزہوگا۔
1:قرآن کریم میں ہے:
"يٰأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِنَّمَا ٱلۡخَمۡرُ وَٱلۡمَيۡسِرُ وَٱلۡأَنصَابُ وَٱلۡأَزۡلَٰمُ رِجۡسٌ مِّنۡ عَمَلِ الشَّيۡطٰنِ فاجۡتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُونَ"
اےایمان والو! بات یہی ہےکہ شراب اورجوا اوربت وغیرہ اورقرعہ کےتیر یہ سب گندی باتیں ہیں،شیطانی کام ہیں، سو ان سےبالکل الگ رہو،تاکہ تم کو فلاح ہو،
(سورۃ المائدہ :90 )
"الَّذِينَ يَأكُلُونَ الرِّبٰوا لَا يَقُومُونَ إِلَّا كَمَا يَقُومُ الَّذِي يَتَخَبَّطُهُ الشَّيطٰنُ مِنَ المَسِّ ذٰلِكَ بِأَنَّهُم قَالُوٓا إِنَّمَا البَيعُ مِثلُ الرِّبٰوا وَأَحَلَّ اللّٰهُ البَيعَ وَحَرَّمَ ٱلرِّبٰوا فَمَن جَآءَه مَوعِظَةٌ مِّن رَّبِّهِ فَانتَهٰى فَلَهُ مَا سَلَفَ وَأَمرُهُ إِلَى اللّٰهِ وَمَن عَادَ فَأُولٓئِكَ أَصحٰبُ النَّارِ هُم فِيهَا خٰلِدُونَ"
اور جو لوگ سود کھاتےہیں، نہیں کھڑےہوں گے(قیامت کےدن قبروں سے)مگرجس طرح کھڑاہوتاہےایساشخص جس کوشیطان خبطی بنادے،لپٹ کر(یعنی حیران ومدہوش) یہ( سزا )اسی لئےہوگی کہ ان لوگوں نے کہاتھا کہ بیع بھی تومثل سودکےہے، حالانکہ اللہ تعالی نےبیع کوحلال اورسودکوحرام کردیاہے. پھر جس شخص کواس کےپروردگارکی طرف سےنصیحت پہنچی، اور وہ بازآگیا، توجوکچھ پہلے(لینا)ہوچکاہے،وہ اسی کارہا، اور (باطنی )معاملہ اس کا خدا کےحوالہ رہا، اورجوشخص پھرعودکرلے، تویہ لوگ دوزخ میں جائیں گے، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۰
(سورۃ المائدہ، آیت: 275)
احکام القرآن للجصاص میں ہے:
"وأما الميسر فقد روي عن علي أنه قال: "الشطرنج من الميسر" وقال عثمان وجماعة من الصحابة والتابعين: "النرد". وقال قوم من أهل العلم: "القمار كله من الميسر". وأصله من تيسير أمر الجزور بالاجتماع على القمار فيه، وهو السهام التي يجيلونها، فمن خرج سهمه استحق منه ما توجبه علامة السهم، فربما أخفق بعضهم حتى لا يحظى بشيء وينجح البعض فيحظى بالسهم الوافر; وحقيقته تمليك المال على المخاطرة. وهو أصل في بطلان عقود التمليكات الواقعة على الأخطار، كالهبات والصدقات وعقود البياعات ونحوها، إذا علقت على الأخطار، بأن يقول: "قد بعتك إذا قدم زيد" و "وهبته لك إذا خرج عمرو" لأن معنى إيسار الجزور أن يقول: من خرج سهمه استحق من الجزور كذا، فكان استحقاقه لذلك السهم منه معلقا على الخطر.
والقرعة في الحقوق تنقسم إلى معنيين: أحدهما: تطييب النفوس من غير إحقاق واحد من المقترعين ولا بخس حظ مما اقترعوا عليه، مثل القرعة في القسمة وفي قسم النساء وفي تقديم الخصوم إلى القاضي. والثاني: مما ادعاه مخالفونا في القرعة بين عبيد أعتقهم المريض ولا مال له غيرهم، فقول مخالفينا هنا من جنس الميسر المحظور بنص الكتاب لما فيه من نقل الحرية عمن وقعت عليه إلى غيره بالقرعة، ولما فيه أيضا من إحقاق بعضهم وبخس حقه حتى لا يحظى منه بشيء واستيفاء بعضهم حقه وحق غيره، ولا فرق بينه وبين الميسر في المعنى."
(باب تحریم الخمر،ص:465، ط: مطبعه الاوقاف الاسلامیة)
شرح مختصر الطحاوی للجصاص میں ہے:
"ومن جهة أخرى: أن هذا من جنس القمار والميسر اللذين حرمهما الله تعالى، وحقيقته: أن يستحق بالقرعة ما لم يستحقه لولاها من الحرية، التي استحقها غيره" (کتاب العتق:ج: 8، ص: 332)
وفيه أيضا:
"ونظيرها في القسمة، أن يقترعا على أن من خرجت قرعته، فله جميع المال، لا حق للآخر فيه، وهذا لا يجوز بالاتفاق، وهو ضرب من الميسر والقمار، فكذلك القرعة في العبيد، هي بهذه المنزلة سواء، لا فرق بينهما."
(كتاب العتق: ج:8، ص: 334)
تبیین الحقائق میں ہے:
"نهى عليه السلام عن بيع الغرر"على ما بينا والغرر ما يكون مجهول العاقبة لا يدري أيكون أم لا."
(کتاب البیوع، باب البیع الفاسد، ج: 4، ص: 46)
فتاوی شامی میں ہے:
"(قوله لأنه يصير قمارا) لأن القمار من القمر الذي يزداد تارة وينقص أخرى، وسمي القمار قمارا ؛ لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه، ويجوز أن يستفيد مال صاحبه وهو حرام بالنص، ولا كذلك إذا شرط من جانب واحد لأن الزيادة والنقصان لا تمكن فيهما بل في أحدهما تمكن الزيادة، وفي الآخر الانتقاص فقط فلا تكون مقامرة لأنها مفاعلة منه ،زيلعي"
(کتاب الحظر والاباحة، فصل فی البیع، ج: 6، ص: 403، ط: ایچ ایم سعید)
2: بدائع الصنائع میں ہے:
" قال أصحابنا الثلاثة: الزيادة في المبيع والثمن جائزة مبيعا وثمنا كأن العقد ورد على المزيد عليه والزيادة جميعا من الابتداء، وقال زفر: لا تجوز الزيادة مبيعا وثمنا ولكن تكون هبة مبتدأة فإن قبضها صارت ملكا له وإلا تبطل."
(كتاب البيوع، فصل في حكم البيع، ج: 5، ص: 258، ط : دارالکتب العلمیة)
فقط والله أعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

