بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

روزے کے افطار کے لئے اذان کا انتظار کرنا

سوال

روزے کے افطار کے لیے قریبی مسجد کی اذان معتبر ہے یا وقت؟ مثلاً وقت داخل ہو گیا ليكن قريبي مسجد کی اذان نہیں ہوئی تو اذان سے پہلے افطار کر سکتے ہیں؟

جواب

 روزہ افطار کرنے کا صحیح وقت سورج غروب ہونے کے بعد ہے، لہذا اگر مشاہدہ یا کسی معتمد و مستند جنتری (اوقات نماز کا نقشہ)  کے اعتبار سے صحیح گھڑی کے مطابق  سورج کے غروب ہونے کا یقین ہوجائے تو  افطار کرنا جائز ہے،  سورج غروب ہونے کےیقین ہوجانے کے  بعد اذان شروع ہونے کا انتظار ضروری نہیں۔

فتاوی شامی  میں ہے:

"(هو) لغة(إمساك عن المفطرات) الآتية (حقيقة أو حكما) كمن أكل ناسيا فإنه ممسك حكما (في وقت مخصوص) وهو اليوم.

(قوله: وهو اليوم) أي اليوم الشرعي من طلوع الفجر إلى الغروب."

(كتاب الصوم، 371/2، ط: سعید)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144708101261
تاریخ05-02-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں