بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نشہ چھوڑنے کا وظیفہ

سوال

 میرے شوہر نشے کے عادی ہیں، نماز کے بھی پابند نہیں اور نیک و صالح لوگوں کی صحبت میں نہیں رہتے؛ اس وجہ سے میں شدید پریشانی میں مبتلا ہوں۔ اس صورتِ حال میں شرعاً میری کیا ذمہ داری بنتی ہے؟

میں ان کی اصلاح اور بہتری کے لیے کیا عملی اقدامات کر سکتی ہوں؟

اگر کوئی مجرّب دعا یا وظیفہ ہو جس سے اللہ تعالیٰ انہیں نشے سے نجات عطا فرمائے اور نماز کی پابندی نصیب کرے تو عنایت فرما دیں۔

جواب

 صورت مسئولہ میں بیوی خدمت اور اطاعت کے ساتھ ساتھ اچھے اور معروف طریقے سے اپنے شوہر کو سمجھائے، اور دعا کرےکہ اللہ تعالی اس بری عادت سے اس کونجات  عطافرمائے اور نمازکا پابند بنائے، نیزگیارہ دن تک درج ذیل آیت کھانے ،پینے کی اشیاء پر دم کراپنےشوہر کو کھلائے،پلائے ،اللہ تعالی  مذکورہ عادت سے  ان شاء للہ چھٹکارا عطافرمادےگا:

"وَحِیلَ بَیۡنَهُمۡ وَبَیۡنَ مَا یَشۡتَهُونَ كَمَا فُعِلَ بِأَشۡیَاعِهِم مِّن قَبۡلُۚ إِنَّهُمۡ كَانُوا۟ فِی شَكٍّ مُّرِیبٍ"

(سورۃ سبأ، آیت نمبر: 54، پارہ نمبر: 22)

(اصلاح خواتین   ص: 462،ط:مکتبہ البشری)

فقط  واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144708101240
تاریخ05-02-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں