بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

آسمان سے گرنے والے قیمتی پتھر پر خُمُس یا زکات کا حکم

سوال

ہمارے علاقے میں آسمان سے قیمتی پتھر گرا تھا،  یہ ایک شخص کے ہاتھ لگا،  اس نے وہ پتھر مہنگے داموں فروخت کردیا،  سوال یہ ہے کہ یہ پتھر معدن  یا کنز کے حکم میں ہوگا ؟اور اس صورت میں اس پر خمس وغیرہ ہوگا یا اس سے حاصل رقم پر زکات ہوگی؟

جواب

صورتِ مسئولہ  میں مذکورہ قیمتی  پتھر پر  نہ خمس ہے اور نہ  زکات  ہے،  البتہ اگر مذکورہ  پتھر فروخت کر نے کے بعد اس سے  حاصل شدہ رقم  موجود ہو تو زکات کی ادائیگی کے وقت اس کو بھی  دیگر  اموالِ زکتا کے ساتھ ملا کر اس پر بھی زکات واجب ہوگی۔

السنن الكبيرى للبيهقي  میں ہے:

"حدثنا يحيى بن آدم، حدثنا شريك، عن سالم، عن سعيد بن جبير قال: ليس في حجر زكاة إلا ما كان لتجارة، من جوهر ولا ياقوت ولا لؤلوا ولا غيره إلا الذهب والفضة."

(باب ما لا زكاة فيه مما أخذ من البحر من عنبر وغيره، 8/ 225، : ط: مركز هجر للبحوث والدراسات العربية والإسلامية)

فتاوی شامی میں ہے:

"(قوله: كمعادن الأحجار) كالجص والنورة والجواهر كاليواقيت والفيروزج والزمرد فلا شيء فيها بحر."

(کتاب الزکاۃ، باب زكاة الركاز، 2/ 319، ط: سعید)

فتاوی  ہندیہ میں ہے:

"الزكاة واجبة في عروض التجارة كائنةً ما كانت إذا بلغت قيمتها نصابًا من الورق والذهب، كذا في الهداية. ويقوم بالمضروبة، كذا في التبيين. و تعتبر القيمة عند حولان الحول بعد أن تكون قيمتها في ابتداء الحول مائتي درهم من الدراهم الغالب عليها الفضة، كذا في المضمرات."

(كتاب الزكاة، الباب الثالث فى زكوة الذهب، الفصل فى العروض، 1/ 179، ط: مكتبه رشيديه)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144708101104
تاریخ04-02-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں