بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

23 جُمادى الأولى 1448ھ 06 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نفلی روزے کی حالت میں اگر ماہ واری آ جائے تو روزے کا حکم

?سوال

نفلی روزے کی حالت میں اگر ماہ واری آ جائے تو روزے کے بارے کیا حکم ہے؟

✓جواب

واضح رہے کہ روزے کی حالت میں اگر مغرب سے پہلے پہلے کسی بھی وقت عورت کو حیض آجائے تو اس کی وجہ سے روزہ فاسد ہوجائے گا، ایسی عورت کو چاہیے کہ کچھ کھالے یا پی لے؛ کیوں کہ اس حالت میں شرعاً روزہ رکھنا درست نہیں ہے، او راس کے لیے روزے دار کی طرح بھوکا پیاسا رہنے کا حکم بھی نہیں ہے۔

البتہ بعد میں اس روزہ کی قضاء لازم ہوگی۔

حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح میں ہے:

"وعلى حائض ونفساء طهرتا بعد طلوع الفجر.

"قوله:وعلى حائض ونفساء طهرتا" وأما ‌في ‌حالة ‌تحقق ‌الحيض ‌والنفاس فيحرم الإمساك لأن الصوم منهما حرام والتشبه بالحرام حرام."

‌‌‌‌(كتاب الصوم، فصل يجب الإمساك، ص:678، ط:دار الكتب العلمية)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144708101066
تاریخ03-02-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں