بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

رشتہ آنے کے لیے استخارہ کرنا

سوال

کیا رشتہ آنے کے لیے استخارہ کر سکتے ہیں؟

جواب

کسی جائزمعاملہ میں جب تردد ہو تواس کی بہتری والی جہت طلب کرنےکےلیےاستخارہ کیا جاتا ہے۔

صورتِ مسئولہ میں محض رشتہ آنے کے لیے استخارہ نہیں بلکہ دعا کی جائے کہ!” اے اللہ  نیک، مناسب اور بابرکت رشتہ عطا فرما“، البتہ جب کوئی رشتہ آجائے تو اس میں قبول کرنے یا نہ کرنے دونوں پہلو میں سے کسی ایک بہتری والی جہت کو متعین کرنے کے لے استخارہ کیا جائے۔

البحر الرائق میں ہے:

"(قوله ومن المندوبات صلاة الاستخارة) قال الشيخ إسماعيل وفي شرح الشرعة من هم بأمر وكان لا يدري عاقبته ولا يعرف أن الخير في تركه أو الإقدام عليه.....الخ"

(کتاب الصلاۃ، باب الوتر والنوافل، الصلاۃ المسنونة کل یوم، ج:2، ص:56، ط:دار الکتاب الإسلامي)

فقط واللہ أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144708100716
تاریخ31-01-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں