بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوی کو تین طلاق کے بعد دوبارہ ساتھ رکھنے کا کوئی حل ہے ؟

سوال

میں نے شادی کے پانچ سال بعد  آج سے ڈیڑھ ماہ قبل اپنی بیوی کو یہ کہا کہ" میں نے  اس کو طلا ق دی،  میں نے  اس کو طلاق دی، میں نے اس کو طلاق دی" میرے دو بچے ہیں  ،اب ہم ایک ساتھ رہنا چاہتے ہیں، تو کیا اس صورت میں کوئی شرعی حل ہے، کہ ہم دوبارہ ایک ساتھ رہیں ؟

جواب

صورت مسئولہ میں  جب سائل نے   اپنی بیوی کو ان الفاظ سے طلاق دی ہے کہ " میں نے  اس کو طلا ق دی،  میں نے  اس کو طلاق دی، میں نے اس کو طلاق دی"تو ان لفاظ سے سائل کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہوچکی ہیں ،بیوی حرمت مغلظہ کے ساتھ حرام ہوگئی ہے، اب  سائل کے لیے نکاح جدید یا رجوع کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔

مذکورہ عورت پر عدت (حمل نہ ہونے کی صورت میں تین ماہ واریاں اور حمل کی صورت میں بچے کی پیدائش )لازم ہے ، اور عدت کے بعد عورت دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی ۔ 

البتہ اگر مطلقہ عورت عدت گزارنے کے بعد کسی دوسرے شخص سے نکاح کرلے، اور نکاح کے بعد اس (دوسرے شوہر) کے ساتھ صحبت (جسمانی تعلق قائم) ہوجائے، اس کے بعد وہ (دوسرا شوہر) اس کو طلاق دے دے، یا بیوی خود طلاق یا خلع لے لے، یا اس (دوسرے شوہر) کا انتقال ہوجائے تو اس کی عدت گزارنے کے بعد اگر فریقین آپس میں دوبارہ نکاح کرنے پر راضی ہوں تو دو شرعی گواہوں کی موجودگی میں نئے ایجاب وقبول اور نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح ہوسکتا ہے۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله عز وجل {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: 230]، وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة."

(کتاب الطلاق، ج: 3، ص: 187 ط: دار الکتب العلمیة)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144708100613
تاریخ28-01-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں