بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کمپنی کے مالک تک کسی ملازم کی شکایت پہنچانے کا حکم

سوال

ایک کمپنی میں دو ملازم کام کرتے ہیں ،ان میں سے ایک ملازم کمپنی کو دھوکہ دے رہا ہے، مطلب خیانت کر رہا ہے تو دوسرے ملازم کے لیے کیا حکم ہے، کیا وہ مالک کو بتانے کا جواز رکھتا ہے یا وہ  کیا کرے ؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر سائل کے پاس مذکورہ ملازم کی خیانت کا واضح ثبوت موجود ہے، تو سب سے پہلے سائل کو چاہیے کہ اسے نرمی اور خیرخواہی کے ساتھ سمجھائے کہ وہ اس طرح خیانت کرکے مالک کو نقصان نہ پہنچائے، تاکہ وہ دنیاوی سزا سے بھی بچ جائے اور خیانت جیسے گناہ میں مبتلا ہونے سے بھی محفوظ رہے۔ اگر وہ کسی صورت سمجھانے پر آمادہ نہ ہو، تو ایسی حالت میں سائل کے لیے مالک کو آگاہ  کرنا چاہیے، تا کہ دونوں کے ساتھ خیر خواہی کا معاملہ ہو،اور اگر صرف اطلاع ہو اور اس کی تصدیق اور ثبوت نہ ہو، تو بغیر تحقیق کے کسی پر الزام لگانا شرعاً جائز نہیں ہے۔

الاختيار لتعليل المختار  میں ہے:

"ولا غيبة لظالم يؤذي الناس بقوله وفعله، ولا إثم في السعي به إلى السلطان ليزجره ولا غيبة إلا لمعلومين.

(ولا غيبة لظالم يؤذي الناس بقوله وفعله) ؛ قال عليه الصلاة والسلام: «اذكروا الفاجر بما فيه لكي تحذره الناس» (ولا إثم في السعي به إلى السلطان ليزجره) لأنه من باب النهي عن المنكر ومنع الظلم."

(‌‌كتاب الكراهية،فصل في الكلام،ج:4،ص:180،ط:دار الكتب العلمية)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144708100527
تاریخ27-01-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں