کیا شادی اور منگنی کی رسومات لازمی ہیں؟ کیا رسومات کرنے میں گناہ ہے یا چھوڑنے میں ثواب ہے؟
سوال
میں تیس لاکھ کا مقروض ہوں، اور اب میں بیٹوں اور بیٹیوں کی شادیاں کروانا چاہتا ہوں،گھر والے منگنی میں رسومات، جیسے دودھ کی رسم، کھانے کی دعوت وغیرہ وغیرہ کرنا چاہ رہے ہیں، اور میں یہ سب نہیں کرنا چاہتا،تو میرے مقروض ہونے کے باوجود ان کا یہ کہنا کہ یہ جائز ہے،کیا درست ہے؟ اور اگر ہم یہ رسمیں نہ کریں تو اس کے کیا فضائل ہیں؟ اور اگر کریں تو کیا وعیدیں ہیں؟ نیز یہ رسمیں جائز ہیں یا نہیں؟
جواب
واضح رہے کہ رسومات میں بالخصوص اسراف اور تبذیر پائی جاتی ہے، اور یہ دونوں قرآن و سنت کی رو سے ناجائز ہیں، مزید برآں، یہ رسومات اکثر غیر مذہبی اقوام سے ماخوذ ہوتی ہیں، جبکہ احادیث میں غیروں کی مشابہت اختیار کرنے سے بھی منع کیا گیا ہے، لہٰذا ان رسومات کو انجام دینے میں قرآن و سنت کی مخالفت لازم آتی ہے، جو ناجائز، گناہ اور حرام ہے، اور ان رسومات کو ترک کرنا قرآن و سنت کے مطابق عمل ہے، جس پر ثواب ملے گا، اگر اس راستے میں لوگوں کے طعنے اور اعتراضات بھی برداشت کرنا پڑیں تو اس پر اللہ تعالیٰ کی جانب سے مزید اجر کی امید ہے،سائل کے رضامندی کے بغیرسائل کو مجبورکرکے اگراس سے پیسہ لیاجائےتویہ ان کے لیے حرام ہوگا۔
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
فتویٰ نمبر
144708100517
تاریخ27-01-2026

