بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 ربیع الثانی 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

شوہر کے انتقال کے بعد بیوی دوسری جگہ شادی کرلے تب بھی وہ شرعاً وارث ہے

سوال

1۔ میری بیٹی کے شوہر کا انتقال ہوا، اس کے شوہر نے اسے گفٹ میں سونا دیا تھا اور وہ مالکانہ طور پر دیا تھا، اب کیا اس سونے میں شوہر کے ورثاء کا کچھ حق ہے؟

2۔ بیٹی اگر اب عدت کے بعد کسی دوسری جگہ شادی کرلے تو کیا اس صورت میں اسے اپنے شوہر کی جائیداد میں حق ہوگا؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں سائل کے داماد نے سائل کی بیٹی کو مذکورہ سونا مالکانہ طور پر دے دیا تھا تو یہ سونا سائل کی بیٹی کی ملکیت شمار ہوگا، اس میں شوہر کے ورثاء کا کوئی حق وحصہ نہیں ہے۔

2۔ جب سائل کی بیٹی شوہر کے انتقال کے وقت اس کے نکاح میں تھی تو عدت کے بعد وہ دوسری جگہ نکاح بھی کرلے تو وہ اپنے (فوت شدہ) شوہر کی شرعاً وارث ہے، اس کو شوہر کی جائیداد میں سے شرعی حصہ ملے گا۔   

فتاوی شامی میں ہے:

"شرط الإرث وجود الوارث حيا عند ‌موت ‌المورث."

(كتاب الفرائض، ج:6، ص:769، ط:سعید)

فتاوی شامی میں ہے:

"(ويستحق الإرث برحم ونكاح)."

(کتاب الفرائض، ج:6، ص:762، ط:سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144708100305
تاریخ24-01-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں