بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مورث کی زندگی میں انتقال کر جانے والے کے لیے میراث کا حکم

سوال

میری والدہ کا انتقال ہوا، اس وقت میرے نانا حیات تھے،اب میرے نانا کا انتقال ہو چکا ہے، ان کے ورثاء میں چار بیٹے، اور تین بیٹیاں ہیں، تو اب سوال یہ ہے کہ نانا کی جائیداد میں ہم نواسوں کا حصہ ہے یا نہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں سائل کی والدہ کا انتقال چونکہ سائل کے نانا کی حیات ہی میں ہو گیا تھا، اس لیے نانا کی متروکہ جائیداد میں سائل یا ان کے بہن بھائیوں کا کوئی حق و حصہ نہیں ہو گا، البتہ اگر نانا کے شرعی ورثاء اپنی خوشی سے سائل اور ان کے بہن بھائیوں کو کچھ دینا چاہیں تو دےسکتے ہیں، اور یہ دینے والوں کے لیے باعثِ اجر و ثواب ہو گا۔

فتاوی شامی میں ہے  :

"وشروطه ثلاثة: موت مورث حقيقة، أو حكما كمفقود، أو تقديرا كجنين فيه غرة ووجود وارثه عند موته حيا حقيقة أو تقديرا كالحمل والعلم بجهة إرثه."

(کتاب الفرائض: 6 / 758، ط: سعید)

البحر الرائق شرح كنز الدقائق (8/ 557):

 

"وأما بيان الوقت الذي يجري فيه الإرث، فنقول: هذا فصل اختلف المشايخ فيه، قال مشايخ العراق: الإرث يثبت في آخر جزء من أجزاء حياة المورث، وقال مشايخ بلخ: الإرث يثبت بعد موت المورث."

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144708100050
تاریخ20-01-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں