بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

صف کے درمیان خالی جگہ سے گزرنے کا حکم

سوال

پیچھے کی صف میں دو بندے نماز میں کھڑے ہیں،  اور دونوں کے درمیان ایک فٹ کا فاصلہ ہے، تو کیا آگے صف سے کوئی بندہ اس فاصلے کے مطابق پیچھے کی طرف گزر سکتا ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں نماز پڑھنے والے  دو افراد کے درمیان  ایک فٹ کا فاصلہ ہونے  کی صورت میں اگر آگے کی صف سے کوئی شخص کھڑا ہو کر اس خلاء کے درمیان  سے گزرنا چاہے، تو اس کی اجازت ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"أراد المرور بين يدي المصلي، فإن كان معه شيء يضعه بين يديه ثم يمر ويأخذه، ولو مر اثنان ‌يقوم ‌أحدهما ‌أمامه ويمر الآخر ويفعل الآخر هكذا يمران."

(‌‌كتاب الصلاة، ‌‌باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها، ج: 1، ص: 636، ط: دار الفكر)

مرقاۃ المفاتیح میں ہے:

"واختلف فيما لو لم يجد طريقا سوى ما بين يدي المصلي، والظاهر جواز دفعه لدفع أبي سعيد الخدري لمن أراد أن يمر بين يديه المرة بعد المرة، مع أنه لم يجد طريقا، فلما عوتب روى الحديث المذكور، لكن هذا الخلاف حيث لم يقصر المصلي بأن صلى بقارعة الطريق، فإنه حينئذ حل المرور بين يديه لتقصيره، حتى جوزوا له المرور إلى الفرجة بين يدي الصف الثاني لتقصيرهم بتركها."

(كتاب الصلاة، باب السترة، ج: 2، ص: 643۔ 644، ط: دار الفكر، بيروت)

  فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144707102231
تاریخ15-01-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں