بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

لباس کی بناوٹ اور سلائی کی شرعی حدود

سوال

 کون سے کپڑے پہننا سب سے زیادہ سنت کے قریب ہے؟ مثلا کالر والا یا بغیر کالر، اسی طرح لکیر والا کرتا(کلی والا) یا بغیر لکیر والا، اسی طرح پانچے اور اسی طرح کف  ۔یہ کہ آپ پوری رہنمائی فرما دیں۔

جواب

 جس  لباس کی شریعت میں ممانعت نہ آئی ہو  اور  ان میں کفار وفساق سے تشبہ نہ ہو ،اور  صلحا ء اور علماء وہ لباس پہنتے ہوں، وہ لباس شرع میں مستحسن کہلائے گا ، اور جس لباس کی شریعت میں ممانعت آئی ہو، یا ان میں کفار یا فساق سے تشبہ ہو ، وہ لباس شرع میں ناپسندیدہ کہلائے گا۔

لہذا بغیر کالر، بغیر کف اور کلی والے کرتے کو ترجیح دی جائے، کیوں کہ یہ علماء اور صلحاء کا لباس ہے۔اسی طرح شلوار اور اس کی پائنچوں کی بناوٹ اور سلائی بھی علماء اور صلحاء کے طریقے کے مطابق ہونی چاہیے۔

الحاصل:شلوار اور قمیص کی بناوٹ اور سلائی کی شریعت میں کوئی خاص اور متعین ہیئت مقرر نہیں کی گئی،  البتہ یہ خیال رکھا جائے کہ اس میں کفار و فساق سے تشابہ نہ ہو اور وہ علماء و صلحاء کے طرزِ لباس کے مطابق ہو،اورسترپوشی کاخصوصی  اہتمام ہو۔

مرقاة المفاتيح ميں هے:

"قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " «‌من ‌تشبه ‌بقوم فهو منهم.

(‌من ‌تشبه ‌بقوم) : أي من شبه نفسه بالكفار مثلا في اللباس وغيره، أو بالفساق أو الفجار أو بأهل التصوف والصلحاء الأبرار. (فهو منهم) : أي في الإثم والخير. قال الطيبي: هذا عام في الخلق والخلق والشعار."

(كتاب اللباس، ج:7، ص:2782، ط:دار الفکر)

فقط واللہ أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144707101817
تاریخ10-01-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں