کیا مالِ تجارت میں منافع پر سال گزرنا زکوٰۃ کے لیے لازمی ہے؟ کیا مالِ تجارت سے قرضے منہا کر کے زکوٰۃ دی جاتی ہے؟
سوال
دکان میں جو سامان پڑا ہو، اس کی زکوٰۃ ادا کرنے کے لیے اس مال پر سال گزرنا ضروری ہے؟ ہم مال اُدھار لے کر اُدھار بیچتے ہیں، جن سے سامان لیتے ہیں، ان کا بیلنس بھی شامل کرنا ہوگا؟ اور جن کو بیچتے ہیں، ان کا بیلنس بھی شامل کرنا ہوگا؟ کئی لوگ ہیں جو اچانک پیسے روک لیتے ہیں اور واپس نہیں دیتے، وہ بیلنس بھی شامل کرنا ہوگا؟ آپ تفصیل سے سمجھا دیں۔
جواب
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"و من كان له نصاب فاستفاد في أثناء الحول مالًا من جنسه ضمّه إلی ماله و زکّاه سواء کان المستفاد من نمائه أولا و بأي وجه استفاد ضمّه سواء كان بمیراث أو هبة أو غیر ذلك."
(كتاب الزكاة، الباب الأول ،ج:1، ص:175، ط:مکتبه حقانیه)
فتاویٰ شامی میں ہے:
"(وسببه) أي سبب افتراضها (ملك نصاب حولي) نسبة للحول؛ لحولانه عليه (تام) ... (فارغ عن دين له مطالب من جهة العباد)".
(کتاب الزکاة، ج:2،ص:259، ط:دار الفکر)
فقط والله اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

