بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سگے بھائی کی رضاعی بہن سے نکاح کرنے کا حکم

سوال

میرے دو بڑے بھائیوں نے بچپن میں یعنی مدت رضاعت میں اپنی چچی کا دودھ پیا تھا ، میرا ایک تیسرا بھائی بھی ہے جس نے اس چچی کا دودھ نہیں پیا ، وہ اس چچی کی بیٹی سے نکاح کرنا چاہتا ہے،  لیکن دوسرے بھائیوں کو اعتراض ہے کہ چونکہ اس کے بھائیوں نے دودھ پیا ہے اس لیے نکاح نہیں ہو سکتا ، کیا ان کا یہ اعتراض درست ہے؟ شرعا یہ نکاح ہو سکتا ہے یا نہیں؟

جواب

صورت مسئولہ میں جس بھائی نے مذکورہ چچی کا دودھ نہیں پیا اس بھائی کا  چچی کی بیٹی سے نکاح جائز ہے، کیوں کہ اس کا مذکورہ  چچی سے رضاعت ررشتہ قائم نہیں ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(وتحل أخت أخيه رضاعاً) يصح اتصاله بالمضاف كأن يكون له أخ نسبي له أخت رضاعية، وبالمضاف إليه كأن يكون لأخيه رضاعاً أخت نسباً وبهما وهو ظاهر."

(کتاب الرضاع ، جلد : 3 ، صفحہ : 217 ، طبع : سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144706100581
تاریخ30-11-2025

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں