بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 ربیع الثانی 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوہ، والد، دو بیٹے اور دو بیٹیوں میں تقسیمِ میراث

سوال

میرے بھائی کا انتقال ہوا ہے، اس کے ترکہ میں تین پلاٹ ہیں، اور ورثاء میں، بیوہ، والد، دو بیٹے، دو بیٹیاں ہیں،تو یہ مذکورہ پلاٹ مرحوم کے ورثاء پر کس حساب سے تقسیم کئے جائیں گے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں مرحوم بھائی کے حقوقِ متقدمہ یعنی کفن، دفن کا خرچہ( اگر کسی نے بطورِ قرض کیا ہو تو وہ ) نکالنے کے بعد،اگر مرحوم کے ذمے کوئی قرض ہو تو وہ ادا کرنے کے بعد، اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ ایک تہائی ترکہ میں اسے نافذ کرنے کے بعد ، باقی کل ترکہ منقولہ و غیر منقولہ کو 144 حصوں میں تقسیم کر کے 18  حصے مرحوم کی بیوہ کو،24 حصے والد کو، 34 حصے  کرکے مرحوم کے ہر ایک بیٹے کو اور 17  حصے کر کے ہر ایک بیٹی کو ملیں گے۔

صورتِ تقسیم یہ ہے:

میت: 24 / 144

بیوہ والد بیٹا بیٹا بیٹی بیٹی
3 4 17
18 24 34 34 17 17

یعنی فیصد کے حساب سے 100 روپے میں سے12.50 روپے بیوہ کو، 16.66 روپے والد کو،23.61 روپے ہر ایک بیٹے کو اور 11.80 روپے ہر ایک بیٹی کو ملیں گے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144706100362
تاریخ26-11-2025

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں